Pages

Monday, 15 May 2017

افسانہ - اُف یہ دوستی

افسانہ - اُف یہ دوستی

محمد علیم ناندوروی

شائع شدہ ممبئی اردو نیوز , جہانِ اردو



رات دو بجے کاشف کے دروازے پر کسی نے دستک دی ، جب کاشف نہیں اٹھا تو دروازہ زور زور سے ٹھوکا گیا۔کاشف کی آنکھ کھلی تو اسے دروازے پر کاظم کی بیوی کی آواز سنائی دی ، وہ کہہ رہی تھی’’کاشف بھیا جلدی اٹھئے ، جلدی چلئے ، آپ کے دوست کاظم کی طبیعت بہت خراب ہو گئی ہے۔ لیکن دل میں پیدا ہو چکی جلن و حسد نے کاشف کو اٹھنے نہیں دیا اور دروازہ کھولنے نہیں دیا۔ وہ خاموش اپنے نرم بستر پر پڑا رہا۔ کاظم کی بیوی بہت دیر تک دروازہ کھٹ کھٹا تی رہی اور گڑ گڑاتی رہی لیکن دروازہ نہیں کھلا نہ ہی کاشف مدد کے لیے آیا۔ جاگنے کے بعد بھی وہ سونے کا ناٹک کرتا رہا۔

صبح کا شف نیندد سے جاگا تو دیکھا ، کاظم کے گھر میں بہت سے لوگ جارہے ہیں اور بہت سے لوگ باہر آرہے ہیں۔ وہ گھبرا گیا اس کے دل کی دھڑ کنیں تیزز ہو گئیں۔ وہ آگے بڑھا ا ور کاظم کے گھر کا گیٹ کھول کر اندر داخل ہوا۔ آنگن میں اسے موٹر سائیکل دکھائی دی۔اس نے دو دفعہ مڑکر موٹر سائیکل کی طرف دیکھااس کے بعد گھر میں داخل ہوا تو ہال میں ایک کونے میں چند عورتیں تلاوت کر رہی تھی ، دوسرے کونے میں کاظم کی بیوی کھڑی رورہی تھی اور پلنگ پر کوئی سفید کپڑا اوڑھے ہو ئے سویا تھا۔ اس نے آگے بڑ ھ کر منہ سے سفید کپڑا ہٹا یا اور دیکھا تو وہ کاظم تھا۔کاظم کے سرہانے بیٹھے مولوی صاحب نے د وبارہ کپڑے سے منہ ڈھانک دیااور کہا کہ ’’رات کو دل کا دورہ پڑا تھا اللہ جنت نصیب کریں۔‘‘اب وہ ایک زندہ لاش کی طرح کھڑا سوچ رہا تھاکہ ’’یہ وہی تو میرا دوست ہے جو ہر وقت سائے کی طرح میرے ساتھ رہتا تھا ، جس کے ساتھ میں نے اپنا بچپن گزارا تھا ، جو مجھے ایک چھوٹے بھائی کی طرح پیار کرتا تھا ، جو مرے لیے اپنی ہر خوشی قربان کر دیتا تھااور آج ضرورت کے وقت میں میں نے اس کی مدد نہیں کی۔ میرا جلن و حسد اس کی موت کی وجہ بن گئی اور آج یہ ہمیشہ کے لیے مجھ سے جدا ہو گیا۔‘‘ اس کی آنکھوں سے آنسوں جاری ہوئے اور وہ زور سے چیخا ’’نہیں…………۔ ‘‘
وہ اتنی زور سے چیخا کہ اس کی آواز سے وہ خود نیند سے جاگ گیا۔اس نے دیکھا کہ وہ نیند میں رو رہا تھا اور اس کا تکیہ نم ہو گیا تھا۔
کاظم اور کاشف دونوں بچپن کے دوست تھے۔دونوں ایک ساتھ کھیلے کودے ، پڑھائی کی ، جوان ہوئے ، شادی ہوئی۔ان کی دوستی بہت گہری تھی۔ دونوں کے گھر آس پاس تھے۔دونوں اپنا ہر کام ایک دوسرے کی رائے مشورہ سے کرتے تھے۔اگر کوئی چیز دونوں کو پسند آجائے تو دونوں ایک دوسرے کو دینے کی کو شش کرتے اور اکثر کاظم بڑا ہونے کے ناتے اپنی پسندیدہ چیز کی قربانی دے دیتا تھا۔
ایک دن کاظم نے کاشف سے کہا تھا ’’ ایک شخص کو روپیوں کی اشد ضرورت ہے اور وہ اپنی چار مہینے پرانی موٹر سائیکل آدھی قیمت پر فروخت کر رہا ہے ، چل موٹر سائیکل دیکھ آتے ہیں۔‘‘موٹر سائیکل دونوں نے دیکھی اور دونوں کو بہت پسند آئی۔کاشف نے کاظم سے کہا ’’یار ایسا کرتے ہیں یہ میں خرید لیتا ہوں۔‘‘کاظم نے کہا ’’نہیں یار مجھے موٹر سائیکل کی ضرورت ہے ، تو یہ میں ہی لے لیتا ہوں۔‘‘ بس اتنی سی بات تھی اور کاشف کاظم سے ناراض ہو گیاتھا اوراس کے دل و دماغ میں کاظم کے لیئے جلن و حسد پیدا ہو گئی تھی۔
صبح چائے دیتے ہوئے کاشف کی بیوی نے اس سے کہا کہ ’’ رات میں کاظم بھائی گھر آئے تھے ، انھوں نے بطور گفٹ(تحفہ ) آپ کے لیے موٹر سائیکل خریدی ہے ، آپ جلد سو گئے تھے تو یہ گاڑی کی چابی دے کر چلے گئے اور معلوم ہوا ہے کہ رات دو بجے ان کی طبعیت بہت خراب ہوئی تھی۔شاید انھوں نے ہم کو بھی نیند سے جگانے کی کوشش کی ہو۔آپ جلدی سے ان کے پاس جائیے۔‘‘ کاشف بہت بے چین ہو گیا ، وہ جلدی سے کاظم کے گھر گیا ، کاظم کی صحت و طبیعت کی خیریت پاکر اسے اطمینان حاصل ہوا۔اس نے گاڑی کی چابی کاظم کو دینا چاہی لیکن کاظم نے چابی نہیں لی۔ کاظم نے کہا ’’قسم خدا کی تو بڑانالائق انسان ہے تجھے تو گولی ماردینی چاہیے ، تجھے گفٹ کرنے کے لیے ہی میں نے یہ گاڑی خریدی تھی اور یہ بتا کل رات کیا تو گھوڑے بیچ کر سورہا تھا اگر میں مر جاتا تو۔‘‘ کاشف نے کاظم کے منہ پر ہاتھ رکھ دیااور اس کے سینے سے لپٹ گیا ۔
– – – – –

No comments:

Post a Comment