Pages

Sunday, 21 May 2017

Uff Yeh Khabar

       اُف یہ خبر        

 (محمد علیم ناندروی) 

شائع شدہ ،ممبئی اردونیوز، ۱۴دسمبر ۲۰۱۶
کئی بار سمجھانے کے بعد آج میں نے پھر ایک بلّی کو اتنی زور سے پتھر مارا کہ وہ تڑپ تڑپ کر اسی جگہ مر گئی اور میں اس بات پر خوش ہوتا رہاکہ میرا نشانہ کتنا اچھا ہے۔ میں بہت ہی شرارتی تھا۔جانوروں کو ستانا میری عادت تھی ۔کبھی بلّی کو پتھر سے مارنا،کبھی کتّے کو ڈنڈے سے پیٹنا اور کبھی بکری کو لات سے مارنا۔میں مختلف طریقوں سے جانوروں کو پریشان کرتاتھا۔محلے کے زیادہ تر افراد مجھ سے سے پریشان تھے۔
ایک دن میں گوشت کے چند ٹکڑے اپنے ساتھ لے آیا، اور کتّے کو دکھا کر اسے اپنے پیچھے پیچھے لے جانے لگا اس طرح میں کتّے کو ایک گہرے کنویں کے قریب لے گیااور کنویں کی دیوار پر گوشت کے ٹکڑ ے رکھ دیا۔کتّا جیسے ہی گوشت کا ٹکڑا کھانے دیوار پر چڑا میں نے اسے دھکّا دے کر کنویں میں ڈ ھکیل دیا۔اور بہت تیزی سے بھاگا کہ کو ئی مجھے دیکھ نہ لے ، میرا پیر پھسلا، میں زمین پر گر ا، ایک بڑے پتھر سے میرا سر زور سے ٹکرا گیا،سر سے خون بہنے لگا،سر چکرا گیا ، تھوڑی دیر بعد میں پھر اٹھااور بھاگتاہواسیدھا گھر گیا۔میں گھر پہنچا اور دیکھا کہ میرے والدین کو محلے کے ایک شخص نے حادثے کی اطلاح دی،میں ان کے سامنے کھڑا تھا لیکن انھوں نے میری طرف دیکھا بھی نہیں اور میری آواز سنی بھی نہیں،وہ سیدھے گھر سے باہر بھاگنے لگے اور میں ان کے پیچھے۔وہ بھاگتے ہو ئے اسی جگہ گئے جہاں میں گرا تھا اور میرا سر ایک بڑے پتھر سے ٹکرا گیا تھا، وہاں لوگوں کا ہجوم لگ گیا تھا۔جب میں نے قریب جاکر دیکھا تو اس پتھر کے پاس میری لاش پڑی تھی ،میں مر چکا تھا۔ابّا دور کھڑے تھے اور ان کی آنکھوں سے آنسوؤ ں کے دھارے بہہ رہی تھی اور ماں لاش سے لپٹ کر رو رہی تھی۔کنویں میں پانی بہت گہرا تھا اور موسم شدید سردیوں کا ہو نے کی وجہ سے نہایت سرد بھی۔ کتّے کی زور زور سے چلانے کی آواز سن کر لوگوں نے کنویں میں جھانکااور اسے باہر نکالا ۔باہر نکلنے کے بعد وہ کتّا میری لاش کے ارد گرد گھوم رہا تھا اور درد بھری آواز سے رو رہا تھا۔

No comments:

Post a Comment