Pages

Monday, 15 May 2017

افسانہ شوکت پہ زوال

افسانہ

شوکت پہ زوال

محمد علیم اسماعیل
آج فرحان خان بڑے تذبذب میں تھے ۔ وہ بڑے پریشان نظر آرہے تھے۔ کوئی فکر ان کو اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی۔گھر کے آنگن میں ایک کونے سے دوسرے کونے تک ٹہلتے جاتے تھے۔کچھ دیر رکتے پھر بیٹھ جاتے ۔کبھی پانی پیتے اور پھر سے ٹہلنے لگتے۔ جب انھیں کسی طرح بھی سکون نہ حاصل ہوا تو اپنے دونوں بیٹوں کو بلایا اور نصیحت کرنے لگے’’تمہارا ووٹ اس بات کی شہادت ،گواہی اور سفارش ہے کہ وہ امیدوار اس کام کے قابل ہے اور اس منصب کا اہل ہے ۔

تمہارا ووٹ صرف تمہاری ذات تک محدود نہیں اس کا نفع اور نقصان معاشرے کے تمام افراد تک پہنچتا ہے۔ اس کا صحیح استعمال اجر و ثواب کا ذریعہ بنے گا اور غلط استعمال سے منتخب نا اہل ، نا قابل امیدوار سے ہو نے والی تمام برائیوں میں تم بھی برابر کے شریک سمجھے جاؤگے اور آخرت میں اس کے جواب دہ ہوگے۔اس لیے میں امید کرتا ہوں کہ آپ لوگ اپنے ذاتی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر قوم وملت کی بھلائی کی خاطر سچی گواہی دیں گے ۔یاد رکھو اتحادزندگی اورانتشار موت ہے۔‘‘
دونوں لڑکے فیاض اور فیض اپنے ابو کی باتون کو بڑی غور سے سن رہے تھے۔بڑے لڑکے فیاض نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور سگریٹ کا پاکٹ باہر نکالا۔پھر اس پاکٹ میں سے ایک سگریٹ نکالا کر اپنے لبوں میں تھام لیا۔اس کے بعد سگریٹ کا خالی پاکٹ درمیان میں رکھ کر بولا’’جس طرح سگریٹ کے پاکٹ پر کینسر والی تصویر کے باوجود لوگ سگریٹ پینا نہیں چھوڑتے بالکل اسی طرح آ ج کل کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ کونسا امیدوار اچھا ہے اور کونسا برا۔ہر کو ئی اپنا فائدہ دیکھتا ہے ۔تو ہم کیوں نہ اپنا فائدہ دیکھیں۔‘‘
فیاض کی بات ابھی ختم ہی نہیں ہوئی تھی کہ فیض بول پڑا’’ہمارے خاندان کے لیے جو شادی خانہ بن رہا تھا اس کا کام ابھی آدھا باقی ہے۔ میں نے ایک امیدوار سے بات کی ہے کہ اگر وہ یہ کام مکمل کرادیتا ہے تو ہمارے پورے خاندان کے ووٹ اس کو ہی ملیں گے۔‘‘اس امیدوار نے مجھ سے وعدہ بھی کیا ہے کہ کل سے کام شروع ہو جائے گا۔
اپنے دونوں لڑکوں کی باتیں سن کر فرحان خان غصے میں آگئے اور بول پڑے ’’تمہا رے سامنے سر پھوڑ نے کی بجائے اگر میں کسی پتھر پر اپناسر پٹک لیتاتووہ دیوتا بن جاتا۔ اور یہ بات بھی ذہین نشین کر لو کہ الیکشن کے بعد اس شادی کھانے کو غیر قانونی بتاکر اس پر بلڈوزر چلادیا جوئے گا۔‘‘ انھوں اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائیں اور آسمان کی طرف دیکھ کر بولیں’’یا اللہ میرے گھر کا یہ منظر ہے تو پورے ملک کا کیا حال ہوگا۔‘‘پھر ان کی زبان سے علامہ اقبال کا یہ شعرنکلا……
قوت فکر و عمل پہلے فنا ہوتی ہے پھر کسی قوم کی شوکت پہ زوال آتاہے
فرحان خان غصے سے گھر میں جاکر بیٹھ گئے۔گھر میں بچے ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ ایک شیر ،ہرن اور بکری تینوں نے ایک ساتھ ایک ہی ندی پر پانی پیا اور اپنی پیاس بجھائی۔اس کے بعد شیر کتے کی طرح دم ہلاتے ہوئے ہرن اور بکری کے پیروں میں بیٹھ گیا۔ٹی وی پر جب یہ نظارہ بچوں نے دیکھا تو اپنے دادا جی فرحان خان سے سوال کیا ’’ دادا جی یہ شیر ،ہرن اور بکری کو کیوں نہیں کھا رہا ہے۔‘‘ فرحان خان نے اپنا سر جھٹکتے ہوئے جواب دیا’’بیٹا ہمارے ملک کی طرح جنگل میں بھی الیکشن ہو نے والا ہے۔‘‘
فیاض گھر سے کسی کام سے نکلا تھا۔ راستے میں دوستوں نے پکڑ لیا اور بتایا’’ آج بہت بڑی الیکشن سبھا ہونے والی ہے۔ تمہارے گھر کے جتنے ووٹ ہیں ان سب کے الیکشن کارڈ بھی ساتھ لیں لو۔آج ووٹ کی تعداد کے حساب کے پیسے مل جائیں گے…… چلو چلتے ہیں۔‘‘ اور وہ الیکشن سبھا میں چل دیا۔سبھا میں امیدوار بھاشن دے رہاتھا۔’’میرے پیارے دیش واسیوں آج پی ایچ ڈی والے بھی چپراسی کی نوکری مانگ کر رہے ہیں۔امیر ،امیر ہو رہا ہے اور غریب ، غریب ہو تا جا رہا ہے۔مہنگائی آسمان چھو رہی ہے۔ دیش کا نوجوان بے روزگار ہے۔میرے کسان بھائی آتم ہتیا کر رہے ہیں۔عورتوں کی عزت لوٹی جا رہی ہے۔کرپشن …… رشوت لینا دینا یہ عام بات ہو گئی ہے۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر آپ نے ہمیں الیکشن جتا دیا تو ہم دوسرے ملکوں میں جمع کالادھن کا ایک ایک روپیہ واپس اپنے دیش لاکر آپ کے بینک کھاتوں میں جمع کرادیں گے۔بچوں کو مفت اور اچھی شکشا دیں گے۔بس ضرورت ہے کہ ایک بار آپ ہمیں اپنی سیوا کا موقع دیں۔‘‘ یہ جذباتی تقریر سن کرلوگ بہت متاثر ہوئے ا ور عوام کو خوشی کی ایک نئی کرن نظر آنے لگی۔ تقریر پر تالیوں کے شور نے عوام کے اعتماد میں اور اضافہ کردیا۔ فیاض بھی تقریر سے بہت متاثر ہوا۔اس نے اپنی خاموشی کو توڑتے ہوئے اس امیدوار کے حق میں خوب نعرے لگائیں۔
سبھا ختم ہونے کے بعد فیاض حجام کی دوکان پر اپنے بال بنا رہا تھا۔حجام نے فیاض سے کہا’’کیا کہتے ہو فیاض میاں، کس کی جیت ہوگی۔‘‘
’’جیت تو اسی کی ہوگی بھائی جولوگوں کے بینک کھاتوں میں لاکھوں روپئے جمع کرائے گا، اور پیسوں کے لیے سب ان کو جتا دیں گے تم دیکھ لینا‘‘
’’کیا لگتا ہے تمھیں ،کیا سچ مچ لوگوں کے کھاتوں میں پیسے جمع ہوگے؟۔‘‘
’’اب بھرسہ تو کرنا ہی ہوگا بھائی اس کے سوا کوئی چارا نہیں ،سالا مہنگائی نے ناک میں دم کر دیا ہے۔‘‘
’’ہاں! صحیح کہتے ہو فیاض ،کوئی بھی کام بنا رشوت اب نہیں ہوتااور اوپر سے مہنگائی کا قہر ‘‘
فیاض کو ووٹ کی تعداد کے حساب سے پیسے بھی مل گئے۔اس نے اسی امیدوار کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا۔
ایک دن فیاض اور فیض کسی کام کے سلسلے میں گھر سے باہر جا رہیں تھے۔راستہ میں ان کی چند دوستوں سے ملاقات ہوئی۔دوستوں نے کہا’’ آج بہت بڑی الیکشن سبھا ہو نے والی ہے ،چلو چلتے ہیں۔‘‘
دونوں نے کہا ’’ نہیں یار آج کام ہے ۔ چندضروری چیزیں خریدنے جا رہے ہیں۔‘‘
’’بھائی آج تو چلنا ہی پڑے گا اور زیادہ وقت بھی نہیں لگے گا اس کے بعد اپنا کام کر لینا۔‘‘
فیض نے کہا’’پہلے ضروری سامان خرید کر گھر دے آتے ہیں اس کے بعد چلیں جائے گے۔‘‘
فیاض نے کہا’’ نہیں پہلے سبھا میں چلتے ہیں اس کے بعد گھر کا کام کریں گے۔‘‘
اور دونوں جلسے میں چلیں گئے۔وہاں ایک امیدوار بھاشن دے رہے تھے۔ملک کی ترقی کی باتیں کرتے کرتے وہ بھڑکاؤں بھاشن دینے لگے ۔ ماحول خراب ہوتا دیکھ امیدوار کے پی اے نے ان کے کان میں کہا ’’صاحب ماحول بہت خراب ہو رہاہے۔ تھوڑی سی چنگاری آگ لگا سکتی ہے۔اگر فساد ہو گیا تو بے گناہ نوجوان مارے جا سکتے ہیں،بچے یتیم ہو سکتے ہیں،لوگ بے گھر ہو سکتے ہیں،اور بھی بہت نقصانات ہو سکتے ہیں۔‘‘
امید وار نے کہا ’’ کیا تمہارے بچے بھی اس سبھا میں شامل ہے‘‘
’’نہیں صاحب میرے بچے تو امریکہ میں پڑھ رہے ہیں۔‘‘
’’تو پھر خاموش بیٹھے رہے اور تماشہ دیکھیں‘‘
اس کے بعد امیدوار نے ایسا بھڑکاؤں بیان دیا کہ دیکھتے ہی دیکھتے پورے جلسے کا ماحول خراب ہو گیا……بھگدڈ مچ گئی …… لاٹھیاں چلنے لگی ……جو لوگ ایک دوسرے کے ہر کام میں شانہ بشانہ تھے وہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے ……پورا علاقہ نذرآتش کردیاگیا…… انسانیت حیوانیت میں تبدیل ہو گئی…… میدان میں ہر طرف خون میں لت پت لاشیں پڑی تھی ……جب سب کچھ ختم ہو گیاتب پولس آئی اور گرفتاریاں ہونے لگی ……شک کی بنیاد پر بے گناہوں کوستایا جانے لگا……فیاض کو گرفتار کرلیا گیا……اسے دہشت گرد قرار دے کر جیل میں ڈال دیا گیا……شر پسند عناصر کے دباؤ میں پولس تو ایک طرف عدلیہ بھی بے اثر ہو چکی تھی…… تلاشی مہم جاری تھی……
لا شوں کے انبار میں خون میں لت پت فیض کی لاش پڑی تھی ……اس کے ہاتھ کی مٹھی بند تھی…… بند مٹھی کھولی گئی……اس میں ایک کاغذ کا ٹکڑانکلا…… جس میں لکھا تھا…… اباکی دوائی……منے کا کھلونا…… گڑیاں کا بستہ……ماں کی چپل……کھانے کا تیل اور سبزی لانا ہے۔
—–

No comments:

Post a Comment