Pages

Sunday, 16 July 2017

افســــــــــانہ   ★   مــــــردہ خـــــانہ  ★

افضل انصاری مالیگاؤں



    

  ★ مردہ خانہ ★

پیڑوں کے پتے شبنم کے بار سے جھکے جا رہے تھے، 
دھند میں آسمان چھپ چکا تھا- ٹھنڈ اس قدر کی تھی کے سوئٹر اور دوسرے کئی گرم کپڑے بدن سے لپیٹنے کے بعد بھی آگ کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی-
،میں لکڑیوں کے لئے مردہ خانے کے عقبی حصے کی طرف بڑھا ہی تھا، کہ گیٹ کے کھلنے کی آواز نے مجھے روک لیا اور میں گیٹ کی سمت بڑھ گیا..
دو کانسٹبل گیٹ کے اندر داخل ہوئے ان کے ساتھ دو عورتیں اور ایک مرد تھا جو شاید لاش کی شناخت کے لئے آئے تھے - سارے مسلسل کانپے جا رہے تھے ..
مطلوبہ لاش کی شناخت ہو چکی تھی، ان کے ہی کسی سگے کی تھی، کیونکہ سائیں سائیں کر تا ہوا مردہ خانہ چیخ و پکار سے گونج اٹھا تھا-
میں نے اپنے بارے میں تو کچھ بتایا ہی نہیں..
بیوی کے مرنے کے بعد میں اسی مردہ خانے کی ایک جانب بنی ہوئی چھوٹی سی جھوپڑی میں رہنے لگا، یہ مردہ خانہ ہی میری کل کائنات تھا، ماں کے مرنے کے بعد بابا کی عمر اسی مردہ خانے میں گزری تھی، میں اور میری بیوی دوسرے گاؤں میں رہا کرتے تھے، بابا دو دنوں تک اسی جھوپڑی میں مرے پڑے رہے،جب ایک لاش لائی گئی تو علم ہوا کہ بابا اس دنیا میں نہیں رہے- بابا کی موت کی خبر مجھے ملنے تک وہ کئی روز اسی مردہ گھر کے ایک سرد کمپارٹمنٹ میں رہے -
سرکاری قانون کے مطابق بابا کے برسر ملازمت مر جانے سے ان کی نوکری اور اسی کے ساتھ ان کی جھونپڑی بھی مجھے مل گئی -
پہلے پہل تو بڑے عجیب سے دن تھے، کوئی کام نہیں، خالی مردہ گھر لیے میں ہفتوں اور کبھی کبھی تو مہینوں بیٹھا رہ جاتا، کبھی کبھار کوئی لاش آتی اور مجھے تھوڑی سی مصروفیت مل جاتی، پھر اس لاش کو یا تو اس کے گھر والے لے جاتے یا کسی لاوارث لاش کا سرکاری طور پر کریا کرم ہو جاتا-
پھر نجانے کیا ہوا !!!!
لاشیں آنے کے وقفوں میں کمی آنے لگی، اب کی بار آنے والی لاشیں کٹی پھٹی ہوتیں، کچھ تو پوری جلی ہوئی بھی ہوتی تھیں، مجھے کسی نے بتایا کہ دنگے شروع ہوگئے ہیں، پھر کچھ لاشیں آئیں یہ زیادہ تر ایک جیسے چہرے والوں کی تھیں، ان کے سینے اور چہرے گولیوں سے چھلنی تھے-
آپ جانتے ہیں اس مردہ گھر کے کچھ مناظر بڑے عجیب ہوتے ہیں، ایک لاش کی شناخت کرنے کے لیے آئے ہوئے بوڑھے ماں باپ لاش دیکھ کر بے حد خوش ہوگئے، آپ حیران ہوں گے کہ لاش کو دیکھ کر خوشی؟؟
"نہیں نہیں! یہ ہمارا بچہ نہیں ہے، اوپر والے تیرا شکر ہے" بوڑھی عورت کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے -
ہے نا عجیب جگہ؟؟؟
یہاں آنے والی لاشیں جہاں کچھ لوگوں کو دکھ دیتی تھیں وہیں بہت سوں کو اس سے خوشی بھی ملتی تھی جب مرنے والا ان کا اپنا نہیں ہوتا تھا-
دسویں سال میں مردہ گھر کی توسیع کا کام شروع ہوا، لاشوں کو رکھنے کے لئے نئے اور وسیع تر انتظامات کیے گئے، لاشیں آتی رہیں، مردوں کی، عورتوں کی، نوجوانوں کی چھوٹے معصوم بچوں کی، کٹی پھٹی، جلی ہوئیں، گولیوں سے چھلنی، ٹکڑوں میں بٹی، ہر طرح کی لاشیں....
میں انہیں سامان ہی کی طرح برتتا تھا، ان کے پیروں میں نمبر والے ٹیگ لگانا، شناخت ہوچکی ہو تو نام لکھنا اور پھر طویل دراز کھول کر لاش اس میں رکھ دینا..
شناخت کے لئے آئے ہوئے لوگوں کو دراز کھول کھول کر سامان کی مانند ان کا دیدار کرانا، یہی میرا معمول تھا-
شاید آپ مجھے بے حس کہیں گے، لیکن مردوں کے درمیان رہنے والا بے حس کیسے کہلائے گا؟؟
اوہ!!! شاید آپ انہیں یہاں تک پہنچانے والوں کو بے حس نہیں کہہ سکتے، شاید آپ کی زبان موٹی ہوجاتی ہوگی یا آپ کے قلم خوف کے مارے خشک ہو جاتے ہوں گے!! یا اور کوئی وجہ ہوگی شاید میں نہیں جانتا، میں جاننا بھی نہیں چاہتا....
بیس سال گزر گئے، میں تنہائی کے اس جنگل میں اب بھی اکیلا تھا، کچھ برسوں تک تو میں نے اس تنہائی کو مٹانے کے لیے کوشش بھی کی مگر شاید ہماری نسل اب مجھ پر ہی ختم ہونے والی تھی، میرا گھر اب بھی ویران تھا مگر مردہ گھر کی رونقیں بڑھتی جا رہی تھیں، اب یہ مردہ گھر بہت چھوٹا محسوس ہونے لگا تھا، حکام بالا سے شکایتیں ہوئیں اور پھر ایک بار اس کی توسیع کا کام شروع ہوگیا، اب کی بار اس کی استطاعت بہت بڑھا دی گئی تھی،ویسے بھی آج شہروں کے بڑھنے کی رفتار سے زیادہ تیز قبرستانوں کے رقبے بڑھتے جا رہے ہیں، مردہ گھر میں سیکڑوں کی تعداد میں نئے دراز اوپر تلے بنائے گئے، برف کی سلوں والا طریقہ بھی ختم ہوگیا، اب ٹھنڈا، گہرا دھواں چھوڑتے نئے اور جدید دراز تعمیر ہوئے،پہلے لاشیں جلد کریا کرم کے لیے بھیج دی جاتی تھیں، مگر نئے تعمیر شدہ دراز اتنے سرد ہوجاتے تھے کہ کسی زندہ انسان کو بھی منٹوں میں لاش میں تبدیل کر دیں - اب ان میں لاشیں ہفتوں بسا اوقات مہینوں محفوظ رہتی تھیں -
اب یہ مردہ گھر ہمیشہ آباد رہنے لگا تھا، الگ الگ مذہب اور دھرم کے لوگ ایک سے لباس میں یہاں خاموشی سے اپنے آخری سفر کے انتظار میں پڑے رہتے، یہاں تو کوئی ایک دوسرے سے جھگڑتا بھی نہیں، نہ کسی کو شکایت ہوتی کہ میرے بازو میں الگ دھرم یا دوسری جاتی والوں کو کیوں رکھا گیا..
بے حد شانت اور شیتل ماحول تھا!..
مردوں کے جسموں سے نکلی ہوئی ٹھنڈک پورے ماحول میں پھیلی ہوتی..
یقین جانیے اگر آپ بھی یہاں کام کر رہےہوتے تو یہی چاہتے کہ کاش پوری دنیا مردہ گھر بن جائے...
ہے نا عجیب خواہش!!!!
مگر مجھے تو یہی سچ لگتا ہے...
رکیے!!!
شاید میں نے روشنی کا ذکر نہیں کیا...
پڑوس کے آشا نگر کی روشنی...
چھوٹی سی کمزور مگر بہت ہی پیاری سی روشنی..
وہ اکثر تتلیاں پکڑنے ادھر آ جایا کرتی تھی، مگر میرے لیے تو وہ سورج کی ایک تیز اور چمکدار کرن ثابت ہوئی، جس نے مردوں سے مجھ میں در آئی برف کو پگھلا دیا، وہ اکثر میرے پاس رک جاتی اور معصوم سی باتیں کرتی جاتی، دھنک رنگ باتیں، ایسی شفاف جیسے اس میں مکر و فریب کا شائبہ بھی نہ ہو، اس کی باتوں کو سن کر میرے ہونٹ پھیل جاتے.. شاید آپ مسکراہٹ کہتے ہوں گے .. لیکن میرے لیے تو ہونٹوں کا پھیلنا ہی تھا اور اس مردہ گھر میں ہونٹوں کا یہ پھیلاؤ بھی پہلی بار ہی تھا-
روشنی کی آمد سے میرے وجود کے بند روزنوں اور کواڑوں کی درز سے ہلکی ہلکی نور کی ایک لکیر اندر تک پہنچ رہی تھی-
لاشوں سے نمٹنے کی بعد مجھے صرف روشنی کا انتظار ہوتا، کسی روز اگر وہ نہیں آتی تو میں سارا دن بے چین رہتا..
ملک میں الیکشن کے نتائج آنا شروع ہوگئے تھے، سارا ملک نفرت کے مخصوص رنگ میں رنگ چکا تھا، انسانوں کے محافظ تماشا دیکھ رہے تھے اور جانوروں کے محافظ حکومت میں آ چکے تھے-
جانوروں کے تحفظ کے نام پر انسانوں کو مارا جانے لگا-
کئی دنوں سے روشنی بھی نہیں آئی تھی کیونکہ آشا نگر کے حالات بھی کافی خراب ہو چکے تھے،
ایک مخصوص چہرے اور پہچان والوں کو ان کے گھروں سے گھسیٹ کر باہر لایا گیا اور پھر انہیں پیٹ پیٹ کر مار دیا گیا، ان کی لاشیں بھی یہیں آئیں، کچلی ہوئیں، اور بے چہرہ، صرف آنکھیں تھیں اور ان میں منجمد خوف...
میں پھر روشنی کا انتظار کرنے لگا، یہ روشنی نظر کیوں نہیں آتی؟؟ صبح کو سورج بھی مجھے اندھیرا ہی بانٹتا ہوا نظر آتا..
روشنی شاید آج آجائے گی...
29اپریل 2017
میری سنائی ہوئی کہانی کا آج آخری دن ہے- فضا میں صبح سے ہی فضا میں گھٹن اور امس ہے، درختوں کے پتے تک خوف سے رکے ہوئے اور بے حس و حرکت ہیں..
آشا نگر سے کچھ خبریں آئی ہیں..
آشا نگر میں جانوروں کے تحفظ کرنے والوں کی تعداد بڑھ چکی ہے...
شاید روشنی بھی خوفزدہ ہو گئی ہے ، اسی لئے اتنے دنوں سے وہ نہیں آئی...
لاشیں پھر آنا شروع ہوگئی ہیں ،آج ان کی تعداد کچھ زیادہ ہی ہے ...
میں ایک ایک کر کے ان کو ٹیگ لگاتا اور دراز میں رکھتا جا رہا ہوں ....
اچانک میری نظر سفید کپڑے کے باہر لٹکتے ہوئے ایک ہاتھ پر پڑتی ہے ، پہلے تو میں اسے نظروں کا دھوکا سمجھتا ہوں ، مگر پھر بھی ہاتھ کا وہ نشان میرے ذہن سے چپک سا گیا ہے ، میں اسے جھٹلانا چاہتا ہوں مگر وہ نشان جونک کی طرح مجھ سے چمٹا ہوا ہے، شاید وہ مجھ سے کچھ کہنا چاہتا ہے.
میں لرزتے قدموں سے آگے بڑھتا ہوں، ایک ایک قدم سو سو من کا ہورہا ہے ، میں اس لاش کے قریب پہنچتا ہوں، لاش پر پڑے ہوئے سفید کپڑے کو ہٹانے کی کوشش سے تو مجھے یوں محسوس ہوتا کہ وہ کپڑا نہیں لوہے کی وزنی چادر ہے..
یکبارگی میں جھٹکے سے کپڑے کو پرے کر دیتا ہوں .
آہ...
روشنی...
وہ کمزور سی روشنی سی..
وہ بجھ چکی ہے ...
روشنی کی کہانی ختم ہو چکی ہے..
میری کہانی کے بھی کچھ ہی پل بچے ہوئے ہیں..
گوارا کر لیں...
میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہوں مگر
میرے قدم بے جان سے ہو گئے ہیں ، مٹھیاں بھنچی ہوئیں ہیں..
میں باہر نظریں دوڑاتا ہوں ..
سورج گھنا کالا اندھیرا اگل رہا ہے..
میں روشنی کو اپنے ہاتھوں میں اٹھا کر ایک دراز کی جانب بڑھ جاتا ہوں ...
میرے ہاتھ شل ہو چکے ہیں، میرا خون برف کی طرح سرد ہو چکا ہے میرا جسم بھی اکڑ چکا ہے، اب اگلی لاش نجانے کب آئے گی اور لوگ مجھ تک اسی طرح پہنچیں گے جیسے میں اپنے باپ تک پہنچا تھا-

No comments:

Post a Comment