Pages

Thursday, 1 June 2017

نظم

نظم

              اِنکار


محبت چھوڑ دی میں نے
محبت چھوڑدی میں نے

محبت آنکھ کا دھوکا 
محبت آگ کا دریا  
محبت تاش کا پتہ 
کبھی اپنی چلاتی ہے 
کبھی اپنی نہیں چلتی 
محبت چھوڑ دی میں نے

محبت خواب ہے ایسا 

کہ جو پورا نہیں ہوتا 
اگر پورا بھی ہوجاۓ
تو پورا نہیں لگتا 
محبت چھوڑ دی میں نے

محبت بات ہے ایسی 

کہ خوشبو پھول کے جیسی 
بہت پیاری بہت نیاری کسی سُنبُل کے جیسی
جو پہلے تو بہت زیادہ کشش کرتی ہی جاتی ہے
جب بُلبُل گیت گاتی 
وہ بہاروں میں مہکتی ہے
پھر دھیرے سے مدھم سے
کہیں گم ہونے لگتی 
خزاؤں میں وہ کھوجاتی
وہ پت جھڑ میں بکھر جاتی 
محبت چھوڑ دی میں نے

محبت ایک تماشہ ہے 

جو دکھتا تو اچھا ہے
مگر دیکھا نہیں جاتا 
کہ اس میں درد کتنا ہے
محبت چھوڑدی میں نے

محبت نام ہے ایسا 

جسے لینا تو ہے آساں 
مگر کرنا بہت مشکل 
وہ لب پہ آنہیں سکتا 
جو دل میں روز آتا ہے 
محبت چھوڑ دی میں نے

محبت راکھ ہے ایسی 

یہ ہے اُس نار کے جیسی 
جو اب جل نہیں سکتی 
مگر بجھ بھی نہیں پاتی 
محبت چھوڑ دی میں نے

کبھی یہ سوچتا ہوں میں 

محبت  تھی تو سب کچھ تھا 
محبت تھی تو خوشیاں تھیں 
محبت تھی تو میں بھی تھا 
کسی کا چاند سا چہرہ 
کسی کی پھول سی باتیں
کسی کی جھیل سی آنکھیں 
کبھی جب یاد آتی ہیں 
میرا دل پھر دھڑکتا ہے 
میں اپنے دل کو سمجھاتا 
اسے ہر طور بہلاتا
ذرا جب دل سنبھلتا ہے 
اسے ہولے سے دھیرے سے 
اسکے کان میں چُپکے سے یہ کہتاہوں 
محبت چھوڑ دی میں نے

جنید اسؔلم (اکولہ,مہاراشٹرا)

No comments:

Post a Comment