Pages

Sunday, 11 June 2017

افسانچے

انجینئر محمد فرقان سنبھلی


افسانچے

1

    غلطی   

’’سنو تم اگر چاہو تو میرے ساتھ میرے گھر چل سکتی ہو۔‘‘ ارشد نے شلوار سوٹ میں ملبوس نوعمر لڑکی کو دعوت دی۔ ’’لیکن …آپ بھلا میری وجہ سے کیوں پریشان ہوں۔‘‘ لڑکی نے ہچکتے ہوئے کہا۔ ’’نہیں مجھے کیا پریشانی ہو گی۔میں تو گھر پر اکیلا ہی رہتا ہوں۔‘‘ ارشدنے سمجھایا۔ ’’ہاں اگر تمھیں مجھ سے خوف لگتا ہے تو پھر کوئی اور جگہ کی بات سوچیں۔‘‘
ارشد کی بات پر لڑکی تڑپ اٹھی ’’ارے نہیں …بھلا آپ سے میں کیوں ڈروں گی۔آپ نے مجھ ابلا کی جان بچائی ہے۔‘‘ دونوں ایک رکشے پر سوار ہو گئے۔ ’’تم اکیلی گھر سے اتنی دور کیسے اور کیونکر آ گئیں۔‘‘ ارشد نے پوچھا تو لڑکی اداس ہو گئی۔
’’میرا ایک پڑوسی لڑکا مجھے بہلا پھسلا کر یہاں بھگا لایا اور پھر مجھے غنڈوں کے ہاتھ فروخت کر کے بھاگ گیا۔ یہ وہی غنڈے تھے جن سے آپ نے میری جان بچائی ہے۔‘‘ ارشد کو لڑکی سے جانے کیوں بڑی ہمدردی پیدا ہو گئی تھی۔ گھر پہنچ کر ارشد نے لڑکی کو آرام کرنے کو کہا اور خود کھانا لانے چلا گیا۔ راستے میں کئی لوگوں نے لڑکی کے بابت دریافت کیا تو ارشد کو بڑی کوفت ہوئی۔ کئی لوگوں نے تو مشورہ بھی دیا کہ کہیں اس لڑکی ک اشکار مت بن جانا۔ آج کل ایسے کیس بہت ہو رہے ہیں کہ انجان لڑکی نے گھر لوٹے۔ارشد کو ان لوگوں کی باتوں پر غصہ تو بہت آیالیکن پھر بھی اس نے دل میں فیصلہ کر لیا کہ وہ لڑکی سے محتاط رشتہ رکھے گا اور جلد ہی اسے اس کے گھر روانہ کر دے گا۔
خیالات میں گم ارشد کھانا لے کر گھر پہنچا تو وہ یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ لڑکی نہا دھو کر سلیپنگ گاؤن پہنے اخبار پڑھ رہی تھی۔ارشد نے لڑکی کوکنکھیوں سے دیکھا تو وہ بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ کھانا کھا کر دونوں سونے کے کمرے میں آ گئے۔ اچانک بہت تیز بجلی چمکی اور بادل گرجا تو لڑکی ڈر کر ارشد سے لپٹ گئی۔پھر برسات کی پھواروں کے درمیان وہ سب کچھ ہو گیا جس کے بارے میں ارشد نے سوچا بھی نہ تھا۔ بارش تھم چکی تھی۔ارشد کی آنکھ کھلی تو وہ بیڈ پر اکیلا ہی س ورہا تھا۔اچانک اسے لڑکی کا خیال آیا تو اس نے اسے ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن وہ کہیں نہ ملی۔ اچانک اسے ٹیبل پر رکھا کاغذ دکھا۔ اس نے جیسے ہی اسے پڑھا اس کا جسم کانپ کر رہ گیا۔ کاغذ میں لکھا تھا ’’ویلکم ان ایڈز فیملی‘‘
٭٭٭

2
   اپنے دکھ مجھے دے دو    

’’کتنی بار کہا ہے کہ تم کسی بات کی بھی ٹینشن مت لیا کرو۔ میں ہوں نا۔‘‘
ارسلان نے خوشی کے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا تو خوشی اسے دیکھتی ہی رہ گئی۔دونوں ایک ہی کمپنی میں نوکری کرتے تھے اور موقع ملنے پر سکھ دکھ بانٹنے بیٹھ جاتے تھے۔
’’اب کیا پریشانی ہے ‘‘ ارسلان نے کہا۔ ’’ایک ہو تو کہوں ‘‘ ۔ خوشی نے قدر خفگی سے کہا۔ ’’کہو تو صحیح‘‘
’’میری نوکری چھوٹ گئی۔‘‘
’’چلو یہ تو ا چھا ہوا۔میں تو کب سے کہہ رہا تھا کہ نوکری چھوڑ ہی دو۔‘‘
’’لیکن نوکری نہیں ہو گی تو میری بیمار ماں کی دوا، گھر کا خرچ اور بہن کی شادی کیسے ہو گی۔‘‘
’’میں ہوں نا -تم اپنے تمام دکھ مجھے دے دو۔‘‘
’’ماں کی دوائی …‘‘
’’میں لا دیا کروں گا۔‘‘
’’گھر کا خرچ کیسے چلے گا میرا تو کوئی بھائی بھی نہیں ہے۔‘‘
’’میرا تو اس دنیا میں تمہارے سوا کوئی نہیں ہے میں تمہارا گھر ہی اپنا سمجھوں گا اور گھر کا خرچ چلاؤں گا۔ ‘‘
’’سچ مچ تم مجھ سے بہت پیار کرتے ہو نا‘‘
’’ہاں بہت زیادہ ‘‘
’’تو میری ایک بات مانو گے‘‘
’’کہو‘‘
’’تم میری بہن سے شادی کر لو ‘‘ خوشی نے کہا تو جیسے ارسلان کو بچھونے ڈنک مار دیا ہو ’’کیا…کیا    کہہ   رہی ہو خوشی‘‘
’’ہاں اور تم میرے بھیا بن جاؤ ‘‘ خوشی کی بات پر ارسلان اچھل ہی تو پڑا۔
’’اگر تم میرے دکھ لے لو گے تبھی تو میں سکون سے ارشد کی دلہن بن سکوں گی جو کب سے میرے لیے انتظار کے دیپ جلائے بیٹھا ہے۔‘‘ ***


No comments:

Post a Comment