Pages

Thursday, 8 June 2017

افسانہ - - ویران جنگل اور کتا


ڈاکٹر ریاض توحیدی ؔ 


وڈی پورہ ہندوارہ کشمیر(انڈیا)


ویران جنگل اور کتا


                وہ بر سوں سے میٹھی نیند کے لئے ترس رہا تھا۔جب بھی اُس کی آنکھ لگ جاتی تو اُس کے اندر سے بھوں بھوں کی تکرار شروع ہو جاتی اور وہ بستر پر کر وٹیں بدل بدل کر سویرے کا انتظار کرتا رہتا۔سویرا ہونے کے باوجود بھی وہ تکیے سے ٹیک لگا کر سر تھامے دیر تک سوچتا رہتا کہ نیند آتے ہی اُس کے اندر سے کیوں بھوں بھوں کی تکرارشروع ہوجاتی ہے....؟ اُسے تو کبھی کسی کُتے نے کاٹا بھی نہیں ہے تو پھر۔۔۔؟ اب وہ کیسے اس حالت سے چھٹکارا پائے....؟ ڈاکٹر لوگ بھی ناکام ہو چکے تھے۔ماہرینِ نفسیات کی ہدایت تھی کہ سونے سے پہلے سوچنا بند کرنا‘سوچنا توبند ہو گیا لیکن بھوں بھوں کی تکرار جاری رہی۔پیروں فقیروں کے گنڈے تعویز سر پر باندھتے باندھتے وہ تھک چکا تھا۔ دفتر جاتے جاتے بھی اُس کی آنکھوں پر نیند کا خُمار چھایا رہتا تھا اور اُس کی توجہ آوارہ کتوں کی ہٹر بونگ کی طرف چلی جاتی تھی۔ ناچاہتے ہوئے بھی اُس کے قدم کچھ پل کے لئے رُک جاتے اور وہ کچرے کے ڈھیر پر آوارہ کتوں کی لپٹ جھپٹ دیکھتا رہتا لیکن جب کتوں کی بھوں بھوں اُس کے اندر کھلبلی مچا دیتے تو وہ اپنے قدم آگے بڑھاتا تھا تا ہم چلتے چلتے اُس کی طبیعت پر بھوں بھوں کی آوازیں خوش گوار اثر چھوڑ جاتیں اور وہ مڑ مڑ کر کچرے کے ڈھیر کی طرف دیکھتا رہتا۔ وہ اب سرکاری نوکری سے سبکدوش ہو رہا تھا۔سرکاری افسری کرتے کرتے اُس کے تمام خواب پورے ہوئے تھے۔ بچے پڑھ لکھ کر اچھے اچھے عہدوں پر تعینات تھے‘ گاڑی بنگلہ بھی تھااور زمین جائیداد بھی خوب کمائی تھی۔آج اُسے بے حد مسرت ہو رہی تھی کیونکہ محکمے نے اس کے لئے ایک شاندار الوداعی پارٹی کا پروگرام بنایا تھا۔وہ وقت پر وہاں پہنچ گیا اور تقریب شروع ہونے کے ساتھ ہی اُس کے حق میں تعریفوں کی گردان شروع ہوگئی۔ تعریفیں سُن سُن کر اُسکا سینہ پھولتارہا۔آخر پر جب صدر محفل صدارتی خطبہ دیتے ہوئے بول پڑا کہ میں نے آج تک اس جیسے فرض شناس اور ایماندار افسر کم ہی دیکھے ہیں تو ایمانداری کا لفظ سنتے ہی اُس پر اُونگھ سی طاری ہوگئی اور اس کے اندر سے بھوں بھوں کی آوازیں گونجنے لگیں۔گونجتی آوازوں نے اسے اپنے دفتر کی چہار دیواری میں پہنچا دیاجہاں اُس کے سامنے اُس غریب انسان کا چہرہ آگیا جس کا مکان شدید زلزلے سے تباہ ہو گیا تھا اور وہ سرکاری امداد سے محروم ہوا تھا کیونکہ اُسے رشوت دینے کی سکت نہیں تھی۔وہ ابھی اُونگھ ہی رہا تھا کہ مائیک کی آواز نے اُسے چونکا دیا۔الوداعی پارٹی ختم ہونے کے بعد جب وہ گھر لوٹ رہا تھا تو کچرے کے نزدیک پہنچ وہ حیران ہو کر ہکا بکا ہوگیا۔ ”بھوں بھوں کی آوازیں کہاں گئیں ...؟“یہ خیال آتے ہی وہ کچرے کی طرف دیکھنے لگا۔ ”یہ کیا....؟“حیران ہو کر اس کے منھ سے نکل پڑا۔ ”کچرا کیسے ختم ہو گیا اور یہ کتے مٹی کے ڈھیر پر کیوں اونگھ رہے ہیں ....؟“ ”لیکن میرے ذہن پر کچرے کے خیالات کیوں چھائے ہوئے ہیں ....؟“وہ گھر کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے سوچنے لگا۔”ویسے اچھا ہی ہواکیونکہ اس کچرے نے بستی کا ماحول آلودہ کر رکھا تھا۔“ گھر میں داخل ہوتے ہی وہ صوفے پر بیٹھ کر سستانے لگا۔ آنکھیں بند کرتے ہی اس کے اندر امید و بیم کی کشمکش شروع ہوگئی۔ کبھی اپنے شاندار ماضی کا تصوّر اُسے زیر لب مسکرانے پر اُکسا رہا تھا اور کبھی مستقبل کی تنہائی کے خوف سے اُس کے اوسان خطا ہو رہے تھے۔ سب کچھ ہونے کے باوجود بھی اُسے آج اپنا آپ بے سہارا سا لگ رہا تھا۔اس کی بیوی چند مہینے پہلے انتقال کر گئی تھی اور بچے تو یورپ میں سٹل ہوگئے تھے۔وہ کبھی کبھی فون پر اُسے دلاسہ دیتے رہتے تھے کہ ڈیڈی‘زندگی کا کاروان ایسے ہی چلتا ہے‘جو ایک دفعہ سرکاری کرسی پر بیٹھ گیا تو اُسے ایک دن یہ کرسی چھوڑنی بھی پڑتی ہے۔بچوں کی باتیں یادکر کے وہ اُداس ہو کر سوچنے لگا کہ کیا اسی تنہائی کو جھیلنے کے لئے وہ عمر بھر کماتا رہا اور جن بچوں کی زندگی بنانے میں اُس نے کبھی اچھے بُرے کی پروا نہیں کی‘وہ آج جبکہ اُسے اُن کے پیار و محبت کی ضرورت ہے‘فون پر ہمدردی جتا کر حق والدین کا فرض نبھا رہے ہیں۔بچوں کی لا پرواہی پر افسوس کرتے ہوئے اُس کا ضمیر اُسے کوسنے لگا: ”اے لالچی انسان‘عمر بھر تو دوسروں کے حق پر ڈاکہ ڈالتا رہا اور اب بچوں کی غفلت شعاری پرافسوس کر رہا ہے؟“ اس کا ذہن ابھی ان ہی خیالات میں اُلجھا ہوا تھا کہ اُسے ایسا محسوس ہونے لگا کہ اُس کے اندر سے بھوں بھوں کی تکرار پھر سے شروع ہوگئی اور اُس کی زبان منھ سے باہر آرہی ہے۔وہ ہڑ بڑاتے ہوئے آئینے کے سامنے کھڑا ہوگیا۔اپنا حُلیہ دیکھ کر اُس پر وحشت سی طاری ہو گئی: ”نہیں نہیں‘میرے ہاتھ پاؤں تو صحیح سلامت ہیں .“ وہ اپنے جسم کا جائزہ لیتے ہوئے خود کو دلاسہ دینے لگا۔”مگر میری پیاس کیوں بڑھ رہی ہے؟“
”نہیں‘پیاس تو روز لگتی ہے؟“
بڑ بڑاتے ہوئے وہ گھر سے نکل کر لان میں چلا گیا اور نل سے منھ لگا کر غٹا غٹ پانی پینے لگا۔حد سے زیادہ پانی پینے سے اُس کی سانسیں پھولنے لگیں۔سانسیں پھولنے کے ساتھ ہی وہ لان کے سبزے پر پاؤں پسار کر لیٹ گیا۔ شام کے دھندلے سائے پھیل رہے تھے۔چنار کے اوپر کوے کائیں کائیں کر رہے تھے۔ کائیں
کائیں کی آواز سے اُس کی آنکھیں کُھل گئیں۔اُس کے ذہن پر ابھی بھی انتشار چھایا ہوا تھا۔وہ اپنے بکھرے خیالات کو سمیٹتے ہوئے لان میں چہل قدمے کرنے لگا۔اسے اپنے حویلی نما مکان کی تنہائی ویران جنگل کی طرح محسوس ہورہی تھی۔کچھ دیر بعد ویرانی کا احساس لئے وہ دوبارہ گھر کے اندر چلا گیا اور بے خودی کے عالم میں گھر کے دروازے کھڑکیاں کھولتا رہا۔دروازے کھڑ کیاں کُھلتے ہی چنار پر بیٹھے کوے کائیں کائیں کرتے ہوئے مکان کے در و دیوار پر چھا گئے۔کوؤں کے شور و غل سے وہ پھر بے چین ہوگیا۔تھوڑی دیر کچھ سوچتے سوچتے وہ گھر سے نکل کر کچرے والی جگہ کی طرف چلا گیا۔وہاں پر اب بھی کتے اونگھ رہے تھے۔ایک کتے کے گلے میں پٹہ لگاہوا تھا۔قدم خود بہ خود کتے کی طرف بڑھنے لگے۔چندلمحوں تک وہ کتوں کو دیکھتا رہا پھر اچانک ہاتھ نے ایک کتے کے پٹے کی زنجیر پکڑلی۔زنجیر پکڑتے ہی دل میں اطمینان کی کیفیت پھیل گئی۔وہ کتے کو ساتھ لے کر گھر میں داخل ہوا۔بیڈ روم کے صوفے پر بیٹھتے ہی وہ ہاتھ سے کتے کے سر کو سہلانے لگا۔اس کے اندر ایک خوش گوار احساس مچلنے لگا اور جذبات میں آکر کتے کو گلے سے لگاتے ہی وہ بڑ بڑانے لگا کہ اُسے فضول میں ویران جنگل کاغم کھائے جارہا تھا‘وہ کہاں تنہا ہے۔۔۔؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


No comments:

Post a Comment