Pages

Monday, 3 July 2017

افسانہ ۔ ۔ ۔ مجبوری......!!! (عقیلہ رانی،دہلی)


مجبوری......!!! (عقیلہ رانی،دہلی)




’’مجبوری‘‘ یہ چھ حرفوں سے بناایک چھوٹا سا لفظ انسان کو تماشائی بناکے رکھ دیتا ہے۔ ایماندار کو چور اور نیک کو بد میں بدل دیتا ہے۔ کسی سے چوری کراتا ہے اور کسی کو خونی بننے پر آمادہ کر دیتا ہے۔
کچھ ایسی ہی مجبوری تھی شنکر کی ’’شنکر‘‘ لمبا چوڑا قد سانولا رنگ لمبی اور خوبصورت آنکھیں اور اُن آنکھوں میں کچھ حسرتیں اور خواہشیں لیکن مجبوری اور بے بسی نے آج اُسے اس مقام پر لاکھڑا کیا جہاں لوگ اسے خونی کہنے لگے اُسے لوگ جانتے تو تھے لیکن اُس کے اندر چھپے ایک مجبور انسان کو سمجھ نہ سکے۔
شنکر ایک خوش اخلاق ، ایماندار اور محنتی لڑکا تھا کسی کو اُس سے کوئی شکوہ نہ تھا سبھی لوگ اُس کو عزت دیتے تھے۔ شنکر کی ایک بہن تھی شیلا وہ اپنے بھائی سے بھی زیادہ خوبصورت اور معصوم تھی سفید رنگ اور اُس پر گلابی گال ، گول چہرہ ، نیلی نیلی آنکھیں لیکن افسوس اِن حسین اور خوبصورت آنکھوں کواوپر والے نے روشنی سے محروم کر دیا وہ پیدائشی نابینا تھی۔ والدین کو گذرے دس برس سے زیادہ عرصہ بیت گیا، شنکر ہی ہے جو اپنی جان سے پیاری بہن کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ شنکر نے شیلا کو کبھی ماں باپ کی کمی محسوس ہونے نہیں دی۔ جب کبھی آسماں سے تارہ ٹوٹتا اور شنکر اس سے کہتا کہ وہ کوئی مانگے تو وہ ہمیشہ یہی دُعا کرتی کہ ایک بار تھوری دیر کے لیے ہی سہی اُس کی آنکھوں میں روشنی آجائے تاکہ وہ اپنے پیارے بھیّا کے چہرے کو دیکھ سکے۔شنکر بھی ہمیشہ اس کی آنکھوں کی روشنی کے لیے دعائیں مانگتا۔ دونوں ہی ایک دوسرے کے سہارے زندگی بسر کر رہے تھے۔
بے چارہ شنکر اپنی پرانی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا، بڑی مشقت کے بعد اُسے گھر سے دور ایک نئی نوکری ملی تھی۔ روز کی طرح صبح کی پہلی کرن کے ساتھ شیلا اُٹھ گئی اورگھر کے کام میں مصروف ہو گئی۔ ٹوٹا ہوا گھر اور گھر میں گذارے لائق کچھ کھانے پینے کے برتن لیکن دونوں بھائی بہن کو اپنی اس مفلسی سے کوئی شکایت نہ تھی۔
آج شنکر کی نئی نوکری کا پہلا دن ہے۔اُسے تھوڑی گھبراہٹ ہو رہی ہے، نہ جانے کیسے لوگ ہوں گے؟ اس کے ساتھ ان کا برتاؤ کیسا ہوگا؟ اسی کے ساتھ شیلا کی بھی فکر ہو رہی تھی کیونکہ اس نے اپنی بہن کواس طرح پہلے کبھی اکیلا نہ چھوڑ ا تھا۔شنکر کو چھوڑنے شیلا دروازے تک آئی اور بولی بھیّا آپ کو زیادہ دیر تو نہیں ہوگی نہ ؟ آپ اندھیرا ہونے سے پہلے گھر لوٹ آئیں گے نہ؟ شیلا کے ان سوالوں سے صاف ظاہرتھا کہ وہ گھر میں اکیلا رہنے سے ڈرتی ہے۔ شنکر نے اِسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ وہ جلد از جلد واپس آنے کی کوشش کرے گا۔ شنکر گھر سے دور کام کرنے چلا تو گیا مگر اِسے اپنی بہن کی فکر تھی۔ وہ سوچتا رہا نہ جانے کیا کررہی ہوگی، اس نے کھانا کھایا ہوگا یا نہیں؟ کاش! گھر میں اُس کی دیکھ بھال کے لیے کوئی شخص ہوتا جس کے سہارے اُسے چھوڑ آتا لیکن آج کے دور میں بھروسے کے انسان ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے اور پھر پڑوس میں بھانو بھی رہتا ہے۔ جو کچھ روز پہلے ہی خون کے الزام میں جیل سے سزا کاٹ کر آیا ہے۔ بھانو جس کو دیکھتے ہی ہیبت سوار ہوتی تھی۔کالا رنگ، بھدّا اور موٹا جسم ،چہرے پر چاکو اور چھری کے جگہ جگہ نشان ۔بھانو کی ہی بدولت شنکر کی فکر دوگنی نہیں چوگنی ہو گئی تھی۔
شیلا کو بھی اس بات کا پورا احساس تھا ۔ اس لیے شام ہونے کے بعد بے چاری گھر میں خود کو قید کر لیتی ہے اس کے علاوہ اس کے پاس دوسرا کوئی راستہ بھی نہ تھا۔ جب سے بھانو آیا تھا اس کا گھر سے نکلنا بہت کم ہو گیا تھا ۔ بھانو شیلا کو بہت پریشان کرتا تھا مگر اس نے اس کا ذکر کبھی اپنے بھائی سے نہ کیا۔ اس بدمعاش سے کون دشمنی مول لے؟ یہی سوچ کر وہ چپ تھی۔ شنکر جب بھی کام سے آتا تو آتے ہی شیلا سے پوچھتا ؟ گھر میں کون کون آیا؟ وہ کہاں پر گئی؟ کیا کھایا؟ ایک ہی تو بہن تھی اس کی اور اس پر وہ اپنی جان نچھاور کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتا تھا۔
سب کچھ ٹھیک رہی چل رہا تھا کہ اچانک ایک دن شنکر کی طبیعت خراب ہو گئی۔ شیلا کے ضد کرنے پر شنکر ڈاکٹر کے پاس بھی چلا گیا، ڈاکٹر نے اسے آرام کی تاکید کرتے ہوئے کچھ دوائیاں لکھی اور کچھ ضروری چیک اپ بھی کروانے کو کہا۔ مالی حالت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے شنکر چیک اپ نہ کرا سکا۔ اُس نے جو پیسے جمع کر رکھے تھے اُس سے وہ اپنی بہن کی آنکھوں کا آپریشن کرانا چاہتا تھاتاکہ وہ سب کی طرح دنیا کی خوبصورتی کو دیکھ سکے۔ شنکر نے اپنے علاج کو نظر انداز کر دیا۔ کچھ دن گذرنے کے بعد شنکر کی حالت اور خراب ہو گئی۔ شیلا رات دن اپنے بھائی کی فکر میں گھلتی جا رہی تھی اُس نے شنکر سے کہا: بھیّا آپ کسی بڑے اسپتال میں اچھے ڈاکٹر سے علاج کرائیے۔ کافی دن ہوگئے ہیں مجھے فکر ہو رہی ہے۔ اتنے میں پڑوس میں رہنے والی گومتی ماسی نے دروازے سے آواز لگائی۔
شیلا۔۔۔۔۔۔ او شیلا شیلا نے فوراً آواز پہچان لی اور شنکرسے بولی یہ ماسی بہت بولتی ہیں میں تو بازار جارہی ہوں تم ہی ان سے بات کرو۔ وہ تم سے ہی ملنے آئی ہوں گی۔ یہ کہتے ہوئے شیلا تھیلا اُٹھا کر باہر چلی جاتی ہے۔
شنکر اورماسی آپس میں بات کرتے رہے باتوں ہی باتوں میں شنکر نے ماسی سے کہا: آپ میری شیلا کا دھیان رکھا کریں۔ مجھے بڑی فکر ہوتی ہے۔ ماسی نے شیلا کا ذکر آتے ہی سوچا کہ آج بھانو کی بدتمیزیوں کے بارے میں شنکر کو سب کچھ بتادے۔ماسی نے کہا اچھا بیٹا جاتے جاتے میں ایک بات بتا دینا چاہتی ہوں شنکر نے حیرت سے کہا! کیا؟ ماسی نے ایک لمبی سانس لی اور بولی: شیلا بے چاری کو بہت کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے بھانو اُسے بہت پریشان کرتا ہے اس کا گھر سے نکلنا مشکل ہو گیا ہے۔ اتنا سننا تھا کہ شنکر غصے میں لال ہو گیا اور ماسی کے جاتے ہی بازار کی طرف چل دیا۔ کچھ دوری پر اس نے دیکھا کہ بھانو اور اس کے ساتھی بدمعاش شیلا کو پریشان کر رہے ہیں۔ شنکر زور سے بدمعاشوں پر چیختا ہے جس سے سب بھاگ کھڑے ہوتے ہیں مگر بھانو وہیں کھڑا رہتا ہے۔ شنکر غصے میں تھا اس نے قریب آتے ہی ایک زور کا طمانچہ بھانو کے گال پر مارا۔ بھانو اب اپنے قابو میں نہ رہا اُس نے گالیاں دینی شروع کر دیں اور شنکر کو جان سے مار ڈالنے کی دھمکی دی۔ شیلا ڈر کے مارے تھر تھر کانپ رہی تھی اس نے شنکر کا ہاتھ پکڑا اور اُسے پکڑ کر گھر لے آئی۔
رات بھر دونوں کو نیند نہ آئی۔ شنکر کو زیادہ غصہ شیلا پر آرہا تھا جس نے اسے کچھ نہ بتایا۔ صبح جب شیلا نے شنکر کو اُٹھایا تو اس کا بدن تیز بخار سے جل رہا تھا۔شیلا نے گھبرا کر شنکر کو اُٹھایا اور بولی۔۔۔۔۔۔بھیّا آج تو آپ کو بہت تیز بخار ہے آپ کام پر مت جائیے۔
شنکر چونکہ ناراض تھا اس لیے اس کی بات کا جواب دینا ضروری نہ سمجھا۔ شیلا نے اسے روکنے کی کوشش کی پر یہ پہلی بار تھا کہ شنکر نے اپنی بہن کی بات نہ مانی اور کام پر چلا گیا۔ابھی کچھ ہی گھنٹے ہوئے تھے کہ شنکر کو چکر آنے لگے مگر وہ برابر کام میں مصروف رہا تھوڑی دیر بعد درد اور بخار برداشت سے باہر ہوگیا اور شنکر بے ہوش ہو کر زمین پرگر پڑا۔ شنکر کے دوست اسے اسپتال میں لے گئے اور شیلا کو شنکر کے بارے میں اطلاع دی۔ شیلا کے سر پر مانو آسمان ٹوٹ پڑا وہ دوڑی دوڑی اسپتال پہنچی۔ اس کے آنسو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے زاروقطار روتے روتے شیلا اپنی انگلیاں شنکر کے چہرے پر پھیر کر یہ محسوس کرنا چاہتی تھی کہ اسے کہیں چوٹ تو نہیں لگی۔ شنکر نے اسے تسلی دی اور کہا : میں ٹھیک ہوں تم چپ ہو جاؤ۔ جلد ہی سب ٹھیک ہو جائیگا۔
شنکر کو اسپتال میں آٹھ ، دس دن ہو گئے تھے مگر طبیعت میں کسی طرح کا کوئی سدھار نہ تھا۔شیلا بُری طرح تھک چکی تھی اس لیے شنکر نے اسے گھر آرام کرنے بھیج دیا۔ اس کے جاتے ہی ڈاکٹر نے شنکرکو بتایا کہ چیک اپ کی رپورٹ آگئی ہیں اور وہ اس کے گھر والوں سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر کے ان باتوں سے شنکر سمجھ چکا تھا کہ رپورٹ ٹھیک نہیں ہیں ۔ شنکر نے فوراً کہا: ۔۔۔ میرے گھر میں کوئی نہیں ہے۔ آپ مجھ سے بات کر سکتے ہیں، ڈاکٹر کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہ تھا اس لیے ہچکچاتے ہوئے کہا۔۔۔ رپورٹ سے پتا چلا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر چپ تھا۔ شنکر آپ بولتے کیوں نہیں؟ شنکر نے اپنے دل کو قابو میں کرتے ہوئے کہا: ڈاکٹر نے نرم لہجہ میں کہا! شنکر آپ کو دماغی کینسر ہے اور تمہارے پاس وقت بہت ہی کم ہے ہمیں افسوس ہے کہ آپ کا علاج نہ ہو سکے گااور پھر ڈاکٹر کمرے سے باہرچلا جاتا ہے۔
شنکر کو سن کر بہت صدمہ ہوا اچھا ہی ہوا کہ اس وقت شیلا موجود نہ تھی ورنہ سنتے ہی مر جاتی۔ شنکر کو اس وقت بھی اپنی فکر نہ تھی وہ تو بس شیلا کے بارے میں سوچ رہا تھا اس کے بغیر وہ کس طرح زندگی گذارے گی؟ شنکر اب عجیب کشمکش میں تھا۔ اس نے ڈاکٹر سے گھر جانے کی اجازت لی اور شیلا کو کچھ نہ بتانے کا فیصلہ کیا۔ شیلا نے جب اچانک شنکر کی آواز سنی تو اُس کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ اسے تو علم ہی نہ تھا کہ آج اس طرح شنکر گھر آجائیگا وہ خوشی میں بولتی جارہی تھی اور شنکر کے آنسو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ شیلا کو اس بات کا احساس نہ ہو جائے ۔ اس لیے شنکر گھر سے باہر آگیا۔
دن گذرتے جارہے تھے اور شنکر کی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی تھی۔ ادھر بھانو کی بدتمیزیاں بڑھتی جارہی تھیں اسے معلوم تھا کہ بیمار شنکر اب اس سے لڑنے کی تاب نہ لاسکے گا۔ بیماری اور شیلا کے فکر نے شنکر کو پوری طرح توڑ دیا۔ ایک رات تو حد ہوگئی بھانو شراب پی کر شنکر کے گھر آیا اور اس کی بیماری پر ہنسنے لگا اورگال پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا! طمانچہ کا بدلا تیری جان نہیں بلکہ اب میں شیلا سے شادی کر کے اس کا بدلا لوں گا۔شنکر نے بھانو کو بُری طرح مارا اور زخمی کر کے گھر سے باہر نکال دیا۔
بھانو سے تنگ آکر شنکر نے فیصلہ کیا وہ شیلا کو خود سے دور کر دے گا۔ وہ اِسے کسی اچھے آشرم میں چھوڑ دے گا جہاں وہ اس کے مرنے کے بعد آرام سے رہ سکے۔ لہٰذا شنکر نے شیلا سے بہانا بنایا اور اِسے باہر چلنے کوکہا اور شیلا تیار ہوگئی۔ گھر سے میلوں دور ایک آشرم میں لے آیا۔ آشرم کے دروازے پر شیلا کو بیٹھایا اور بہانہ بناتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔! تم یہیں رہنا میں پانی لے کر آتا ہوں۔ شنکر دور جاکر کھڑا ہو جاتا ہے جہاں سے وہ شیلا کو دیکھ رہا تھا وہ چاہتا تھا کہ کوئی اسے آشرم لے جائے اس کے بعد وہ گھر چلا جائے گا۔ کافی دیر بعد بھی جب شنکر نہ آیا تو شیلا کی فکر بڑھ گئی۔ بھیّا بھیّا!! کہہ کر پکارنے لگی۔ تاکہ ہمیشہ کی طرح شنکر اس کی آواز سن کر دوڑا چلا آئے۔ شنکر وہیں دور کھڑا دیکھ رہا تھا ۔شیلا کی آواز سن کر آشرم سے کچھ لوگ باہر آئے اور اس سے سوال کرنے لگے۔ اس نے بتایا کہ شنکر اس کا بھائی پانی لینے گیا تھا اور کافی دیر ہوگئی ہے مگر واپس نہ آیا۔ وہاں پرکھڑے سبھی لوگ سمجھ گئے کہ اس کا بھائی اسے آشرم کے دروازے پر کیوں اکیلا چھوڑ گیا۔ شیلا کے صبر کا باندھ اب ٹوٹ گیا اور وہ بھیّا بھیّا کہہ کر رونے لگی جس کی آنکھوں میں کبھی آنسو دیکھنا شنکر کو منظور نہ تھا۔ آج اس مجبوری کی وجہ سے شیلا کی آنکھیں روتے توتے سوجھ گئی اور وہ دیکھتا رہا۔ شیلا کسی قیمت پر آشرم میں جانے کے لیے راضی نہ ہوئی اسے تو اپنے بھائی کا انتظار تھا جب کافی دیر ہوگئی اور شیلا آشرم نہ گئی تو شنکر سے برداشت نہ ہوا اور وہ دوڑتا ہوا آگیا اور شیلا کو اپنے گلے سے لگا لیا۔
شنکر کو اس وقت احساس ہوگیا کہ اس کے بغیر شیلا اپنی زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔شیلا کو اب تک اپنے بھائی کی بیماری کے بارے میں معلوم نہ تھا۔ ادھر شنکر کے حالت اور زیادہ خراب ہو رہی تھی۔ شنکر اب شیلا کو ایسی جگہ پہنچا دینا چاہتا تھا جہاں پر شیلا کو کوئی بھانو جیسا شخص پریشان نہ کرے۔ جہاں اس کے اندھے پن کا کوئی فائدہ نہ اُٹھا سکے اور وہ آرام کی زندگی بسر کر سکے۔ ساتھی ہی وہ اُسے خوش دیکھ کرسکون سے مر سکے۔ پر اتنی سکونت پذیر جگہ اس دنیا میں کہاں نصیب ہوتی۔ شنکر نے بہت سوچا اور آخر میں وہ ایک نتیجہ پر پہنچا۔ اُس نے شیلا کا ہاتھ پکڑا اور ایسی جگہ لے گیا جہاں دور دور تک ریلوے لائن کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ جہاں تھوڑی تھوڑی دیر بعد تیز رفتار سے ریلوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ شنکر نے شیلا کا ہاتھ پکڑا اور ایسی جگہ پر کھڑا کر دیا جہاں کچھ دیر بعد تیز رفتار سے ایک ٹرین گذرنے والی تھی۔ شیلا کو احساس ہو چکا تھا کہ اس کالاچار اور بیمار بھائی اب اس کو اپنے سے دور کرنا چاہتا ہے۔ ا س لیے اُس نے اپنے بھائی کا ہاتھ چھوڑ دیا کیونہ اسے احساس ہے کہ جہاں وہ کھڑی ہے کچھ ہی دیر بعد وہاں ہوا کی رفتار سے ایک ٹرین گذرنے والی ہے۔ شنکر کی آنکھوں میں آنسو ؤں کا سیلاب تھا۔ بے بسی اور لاچاری سے وہ نڈھال اپنی معصوم بہن کو آج اس منزل پر چھوڑ رہا تھا۔ جہاں سے وہ کبھی واپس نہیں آئے گی۔ شیلا اندھی تھی پر بہری نہ تھی وہ چاہتی تو اس راستے سے ہٹ سکتی تھی مگر اب وہ اپنے بھائی پر اور بوجھ نہیں بننا چاہتی تھی اس لیے مسکراتی رہی۔شنکر کو اپنی معصوم بہن پر ترس آرہا تھا آج وہ کتنا بے بس، کتنا مجبور ہے وہ نہیں چاہتا کہ اس کے مرنے کے بعد اس کی بہن روز تِل تِل مرے۔ شیلا ابھی بھی مسکرا رہی تھی۔ اسے ماضی کی تمام باتیں یاد آرہی تھیں کہ کس طرح اس پیارے بھائی نے مجھے انگلی پکڑ کر چلنا سیکھایا تھا۔ کس طرح وہ میرا سایا بن کر میرے ساتھ ہر وقت کھڑا رہا مگر آج اُسے مجبوری نے اس مقام پر لاکھڑا کیا۔ مگر شنکر دور کھڑا روتا رہا۔۔۔ روتا رہا۔۔۔ روتا رہا اور بس روتا رہا۔
***

No comments:

Post a Comment