Pages

Monday, 22 May 2017

افسانہ - روٹی



     روٹی     
 (عقیلہ رانی،دہلی)



عامر اور ناصر دونوں بھائی آنکھیں بند کیے اور ہاتھ پھیلا کر کچھ دعا مانگ رہے تھے۔ جیسے کی آنکھیں کھولی سامنے کچھ لوگ آتے نظر آئے، جنھیں دیکھ کر دونوں خوشی سے بھاگتے ہوئے اپنی ماں کے پاس گئے اور کان میں کچھ کہا۔ جسے سن کر ماں بولی۔۔۔ اچھا کہاں؟ 
بچوں نے قبرستان کی طرف انگلی اٹھائی اور کہاں وہاں۔ جا جلدی سے دیکھ وہاں کیا ہو رہا ہے۔ کہاں سے آئے ہیں وہ لوگ؟ ادھر ضرور لے آنا جاؤں جلدی جاؤ، یہ سن کر عامر اورناصر ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر بھاگتے ہوئے چلے گئے۔ قبر ابھی کھودی جا رہی تھی۔ لوگ مرنے والے کے عزیزوں کو دلاسہ دے رہے تھے۔ اتنی بھیڑ میں بھی عامر اور ناصر الگ ہی نظر آرہے تھ۔پتلے پتلے ہاتھ، گدلی پیلی آنکھیں ان کی غریبی کی گواہی دے رہی تھیں۔ حالانکہ سب کسی کو دفن کرنے آئے تھے مگر پھربھی نئے لباس پہنے ہوئے تھے۔ ان کے کپڑے دیکھ کر دونوں بچے اپنے پھٹے پرانے کپڑوں کو چھپانے کی نہ کام کوشش کرنے لگے۔
جب قبر تیار ہوگئی اور سب فاتحہ پڑھ کر چلنے لگے ۔ ناصر نے فوراً اس مردہ کے عزیز کو پہچانتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔ چچا آپ کو ہماری امی بلا رہی ہیں۔
کون؟ کہاں؟ اس شخص نے بچوں سے سوال کیا۔
چلیے ہمارے ساتھ۔۔۔۔۔۔ یہ سن کر وہ بچوں کے ساتھ چلنے لگا۔ قبرستان سے ٹھیک دس بارہ قدم چلنے کے بعد ایک ٹوٹی پھوٹی چھونپڑی نظر آئی۔ جہاں عامر اور ناصر اپنی ماں اور باپ کے ساتھ رہتے تھے۔ 
عامر نے کہا۔۔۔ ہاں! چچا یہی ہے ہمارا گھر رکیے امی کو بلاتے ہیں۔ امی امّی دیکھو وہ آگئے۔
چھونپڑی سے بلقیس پرانے دوپٹے سے سر کو چھپاتی ہوئی باہرآئی۔۔۔۔۔۔ آپ نے مجھے بلایا تھا؟ اس نے پوچھا!
ہاں۔۔۔۔۔۔ مجھے آپ سے کچھ کہنا تھا۔
کیا کہنا ہے؟
بلقیس غریب ضرور تھی مگر بہت غیرت مند تھی حالات نے اسے اس موڑ پر لاکھڑا کیا تھا جہاں سوائے ہاتھ پھیلانے کے دوسرا راستہ نہ دکھائی نہ دیا۔ شرم سے زمین میں گڑھی جا رہی تھی بڑی ہمت کر کے بولی۔۔۔۔۔۔ آپ مرنے والے کے کون ہیں؟
چھوٹا بھائی تھا میرا۔ اچانک انتقال کر گیا۔ یہ کہہ کر اس شخص کی آنکھوں میں آنسوؤں آگئے۔
آپ کیوں پوچھ رہی ہیں؟
آپ اپنے چھوٹے بھائی کے نام کا کھانا نکالیں گے نا؟
اب وہ شخص سب سمجھ گیا اور بولا۔۔۔ اچھا ۔۔۔ہاں ضرور نکالیں گے چالیسوے تک۔۔۔۔۔۔ اور آپ کو میں دے جایا کروں گا۔ میں نفیس کو جانتا ہوں بہت شریف ہے تمہارا شوہر۔ مگر لالا اس کے ساتھ ٹھیک سے پیش نہیں آتا۔ اس سے پہلے جس گھر سے آپ کے پاس کھانا آتا تھا میں نے ہی انھیں کہا تھا کہ اس گھر میں کھانا دیا کرتا۔ میرا نام ادریس ہے اور میرا گھر لالا کی دکان کے پاس ہی ہے۔ یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔
اندر سے نفیس کی آواز آئی۔۔۔۔۔۔ بلقیس کون تھا کس سے بات کر رہی تھی تو؟
بلقیس نے اندر دہلیز پر قدم رکھتے ہوئے کہا۔ قبرستان میں نیا مردہ آیا ہے۔
اچھا تو روٹی کی بات کرلی تم نے؟ ہاں کی تو ہے! مگر مجھے بہت شرم آتی ہے۔ تم جلد ہی لالا سے نوکری کے بارے میں بات کرو ۔ 
کوشش کر رہا ہوں۔ آج اس سے بات بھی کروں گا، اتنی سی تنخواہ میں نہیں ہوتا گزارا۔ تنخواہ بڑھے تو دو وقت کی روٹی عزت سے کھائیں۔
بلقیس کو نہ جانے کیوں نفیس کی باتوں سے کسی طرح کی کوئی خوشی نہ ہوئی اسے معلوم تھا کہ اس کے شوہر کی حالت اور صحت اب اس لائق نہیں رہی کہ اب تنخواہ میں اضافہ ہو۔ اتنی کم تنخواہ میں گھر چلانا ایک عذاب سا تھا۔ اس لیے قبرستان میں جب کوئی مردہ آتا تو بلقیس اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ بھرنے کا انتظام کرا ہی لیتی۔
شام کو جب نفیس گھر واپس آیا تو اس کے چہرے پر مایوسیوں کے بادل منڈلا رہے تھے۔ بلقیس دیکھ کر سمجھ گئی کہ لالا نے تنخواہ میں کسی طرح کا اضافہ نہ کیا۔ اس نے نفیس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔۔۔۔ سب ٹھیک ہو جائیگا۔ آج نہیں تو کل ضرور تنخواہ میں اضافہ ہوگا۔
یہ سنتے ہی نفیس کی آنکھیں جھک گئیں اور بولا۔۔۔۔۔۔ وہ دن کبھی نہیں آئیگا۔ اس نے مجھے نوکری سے نکال دیا ہے۔ اس صحت کو دیکھ کر دوسرا کوئی بھی مجھے نوکری نہیں دے گا۔ ویسے ہی ہمارے گھر میں اتنی پریشانی ہے دو وقت کی روٹی نصیب نہیں اور اب یہ سب۔
ماں باپ کو روتا دیکھ کر عامر اور ناصر بھی رونے لگے۔ اتنی سی عمر میں زندگی نے انھیں بہت کچھ سیکھادیاتھا۔ رات کو ادریس کچھ کھانا دے جاتا جسے سب کھا کر سوجاتے۔ مگر دوپہر کے کھانے کا کچھ پتا نہ رہتا۔ ہزار کوششوں کے باوجود نفیس کو کوئی کام نہ مل سکا۔ آہستہ آہستہ ان کی حالت بد سے بدتر ہوتی چلی گئی۔
بچے بھوک کے مارے گھر کے کونے میں پڑے پڑے سارا دن گذار دیتے اب کھیلنے کی طاقت ان میں نہ تھی۔ شام ہوتے ہی ادریس کے آنے کی خوشی ان مردوں میں کچھ جان لے آتی۔ سورج چھپتے ہی بار بار دونوں کی نگاہیں دروازے تک جاتی مگر پھر ایک دن یہ بھی ختم ہو گیا۔ ادریس کھانا نہ لایا ، انتظار کرتے کرتے اندھیرا چھا گیا مگر وہ نہ آیا۔
عامر نے اپنے بھائی سے پوری طاقت لگا کر پوچھا۔۔۔ بھائی آج وہ آدمی کھانا کیوں نہیں لایا؟ آج رات کو ہمیں بھوکا سونا ہوگا کیا؟
ناصر نے اپنے خشک حلق کو تھوک سے تر کیا اور بولا۔۔۔ پتا نہیں، شاید کل آئے۔
مجھے معلوم ہے وہ کیوں نہیں آیا۔ بتاؤ! آج چالیس دن پورے ہوگئے ہیں۔ بلقیس دونوں کی باتیں بڑی خاموشی سے سن رہی تھی یہ سن کر اس کا دل لرز گیا اور بولی۔۔۔ ۔۔۔ نہیں بیٹا تمہارے ابا گئے ہیں کھانا آتا ہوگا۔
بچے نفیس کا انتظار کیے بغیر ہی پانی پی کر سو گئے انھیں معلوم تھا کہ ابا کے پاس اتنے پیسے نہیں کہ روٹی لا سکے۔ صبح اٹھے تو بلقیس اور نفیس دونوں منھ لٹکائے چارپائی پر لیٹے تھے ناشتہ بنانے اور کرنے کی فکر کسی کو نہ تھی۔
نفیس روز صبح کام کی تلاش میں نکلتا اور شام کو مایوسی کے ساتھ لوٹ آتا، تین روز گذر چکے تھے اب معصوموں کے صبر کا باندھ ٹوٹ گیا، دوپہر کے وقت عامر کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے جنھیں چھپانے کی اس نے لاکھ کوشش کی مگر ظالم پیٹ بہت بے درد ہوتا ہے اس نے کسی کا لحاظ نہ کیا اور لگا ادھم مچانے۔ بلقیس عامرکے رونے کی آواز سن کر دوڑی آئی اور آنسو پوچھتے ہوئے بولی!
آج ضرور کھانا لائیں گے ابّا۔۔۔ تم روؤں نہیں بلقیس نے عامر کے آنسوتو پوچھ دیے مگر خود پر قابو نہ رہا۔
ناصر بھی روتے ہوئے بولا۔۔۔ امّی مجھے بھی بہت بھوک لگی ہے میرے پیٹ میں درد ہو رہا ہے۔
بس بیٹا آج ضرور کھانا آئیگا۔ کچھ دیر اور رُک جاؤ آج تمہارے ابّا لالا سے اپنی بقایا تنخواہ لینے گئے ہیں۔ پھر کھانا ضرور ملے گا۔ 
عامر دروازے پر بیٹھ کر قبرستان کی طرف لگاتار دیکھے جارہا تھا جسے دیکھ کر لگا کہ پھر آج وہ کسی کے آنے ک دعا مانگ رہا ہے۔ صبح سے شام ہوئی اور شام سے رات مگر ابھی تک نہ نفیس آیا اور نہ ہی کھانا۔ ناصر دیوار پکڑ کر عامر کی چارپائی کے پاس سے گذر رہا تھا کہ اچانک چلایا۔ اسے دیکھو امی عامر کو کیا ہوا۔ بلقیس تیزی سے آئی تو دیکھا عامر کی آنکھیں اوپر چڑھی جارہی ہیں ہاتھ پیر برف کی طرح ٹھنڈے پڑے ہیں۔ عامر آنکھیں کھولو بیٹا۔۔۔ 
ابا کھانا لاتے ہوں گے بلقیس روتی جا رہی تھی اور کہتی جارہی تھی ایک بار اٹھ جا میرے بچے بس ایک بار آنکھ کھول۔۔۔ دیکھ کھانا آتا ہوگا۔
اتنے میں ادریس گھبراتا ہوا گھر میں داخل ہوا اور بولا۔۔۔۔۔۔ بلقیس بہن جلدی چلو۔ میرے ساتھ نفیس اور لالا میں تو تو میں میں ہو رہی تھی اور بات اتنی بڑھ گئی کہ نفیس کے ہاتھوں لالا کا قتل ہوگیا۔ جلدی چلو۔
یہ سنتے ہی بلقیس پر مانو پہاڑ ٹوٹ پڑا۔
مگر عامر نے آنکھ کھول دی اور پوری طاقت لگا کر بولا۔۔۔ امی اب آجائیگی نا روٹی۔


1 comment:

  1. ماشائ اللہ عقیلہ رانی کا یہ افسانہ چشم کشا اور آج کے حالات کا عکاس ہے۔اس میں ہمارے موجودہ کا وقت کا کرب اور الم نیز سب بڑا مسئلہ روٹی نہ صرف استعاراتی طور پر ایک بڑا سوال ہے بلکہ حقیقت کے طور پر یہ سلگتا اور جی جلاتا مسئلہ ہے۔
    میں عقیلہ رانی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ ان کا قلم اسی طرح آگے بڑھتا رہے گا اور ان کی فکررسا اسی طرح پروان چڑھتی رہےگی۔آمین
    ایں دعا ازمن و جملہ جہاں آمین بار

    ReplyDelete