Pages

Monday, 10 December 2018






کتاب کا نام: الجھن (افسا نچے و افسانے)
مصنف : محمد علیم اسماعیل
ضخامت : 128 صفحات
قیمت   : 150 (ڈسکاؤنٹ کے ساتھ 65 روپے)
ملنے کا پتہ : محمد علیم اسماعیل (8275047415)
مبصر : اشفاق حمید انصاری

محمد علیم اسماعیل ایک نبض شناس قلمکار ہیں۔جنھوں نے قلیل مدت میں اپنی منفرد شناخت بنائی ہے۔وہ نئی نسل کے نمائندہ لکھنے والوں میں سے ہیں۔ان کی تحریریں ہند و پاک کے مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔’’الجھن‘‘ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے۔جس میں 60 افسانچے اور 13 افسانے شامل ہیں۔زیر نظر کتاب ادبی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جارہی ہے۔محمد علیم اسماعیل مہاراشٹر کے ایک مقام ناندورہ سے تعلق رکھتے ہیں جہاں افسانہ و افسانچہ نگاری کے لیے ماحول میسر نہیں۔بلاشبہ وہ ناندورہ کے پہلے افسانچہ نگار ہیں۔جب انھیں لکھنے لکھانے کا شوق ہوا تو انھوں نے سوشل میڈیا پر سینئر ادیبوں سے رابطہ قائم کیا۔اور ان سے افسانہ و افسانچہ نگاری کے گر سیکھے۔افسانچہ نگاری میں ڈاکٹر ایم۔اے۔حق ان کے استاد ہیں۔اس کے علاوہ سلام بن رزاق،محمد بشیر مالیرکوٹلوی،ڈاکٹر اسلم جمشید پوری،معین الدین عثمانی،نورالحسنین، ڈاکٹر عظیم راہی،ڈاکٹر شاہد جمیل وغیرہ ادیبوں سے وہ مسلسل رابطے میں ہیں۔اور ان سے فن کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔موصوف اعلی تعلیم یافتہ،گورنمنٹ اردو اسکول میں پرائمری ٹیچر ہیں۔ ایم۔اے،بی۔ایڈ،اردو میں نیٹ اور سیٹ امتحانات کوالیفائی ہیں۔
زیر تبصرہ کتاب میں ڈاکٹر ایم۔اے۔حق،ڈاکٹر اسلم جمشید پوری،معین الدین عثمانی،قدرت ناظم اور اعجاز پروانہ ناندوروی کے دو/تین صفحات پر مشتمل مضامین شامل ہیں۔’’سخن قلب‘‘ میں فاضل افسانہ نگار نے بہترین زبان و بیان کا استعمال کر کے افسانچہ اور افسانہ کے متعلق جو گفتگو کی ہے وہ قابل تعریف ہیں۔انھوں نے کہانی اور افسانے پر بھی اچھی بحث کی ہے۔
اہل ادب جانتے ہیں کہ افسانچہ و افسانہ تحریر کرنا منہ کا کھیل نہیں۔یہ ایک فن ہے۔جس کے لیے فنکاری چاہیے۔پروفیسر طارق چھتاری لکھتے ہیں:
’’مختصر ترین افسانے لکھنا بہت مشکل کام ہے۔بڑی فنکاری چاہیے۔آپ اس میں کامیاب ہوئے ہیں۔‘‘
ندامت،حق بات،غلط فہمی،عقل،اختیار،عمل،شرمندگی،جانور،نظریہ،مستقبل، خاموش دھماکہ،افسوس،ذمہ داری،سردرد،شرط،سوال،شکایت،فکر،تبدیلی،کامیابی،
یہ کیسے۔۔۔،لڑائی،مسیحائی وغیرہ ایسے افسانچے ہیں جنھیں ایک سے زائد بار پڑھنے پر بھی وہی لطف آتا ہے۔کتاب میں شامل سبھی افسانچوں سے طمانچوں کی گونج سنائی دیتی ہے۔
کتاب میں شامل افسانچے نہ اقوال ہیں،نہ لطیفے ہیں، نہ فقرے ہیں نہ خبریں ہیں یہ افسانچے ہی ہیں۔ ڈاکٹر ایم۔اے۔حق لکھتے ہیں:’’زیر نظر مجموعہ’الجھن‘ میں ان کے افسانچے اس صنف کے شرائط پر کھرے اترتے ہیں۔‘‘
اختتام پر قاری کو چونکا دینا اور سوچنے پر مجبور کر دینا زیر نظر کتاب کے افسانچوں کی نمایاں خصوصیات ہیں۔جس میں سماجی مسائل پر طنز ہے۔ مسائل پر طنز کرنے کا مقصد ان کی اصلاح کرنا ہے۔بیش تر افسانچوں میں سسپینس ہے، تجسس ہے جو اختتام پر ایک دھماکے کے ساتھ کھلتا ہے۔
ناول نگار سلمان عبدالصمد لکھتے ہیں:’’آپ کے چند سطری چند افسانچے اس قدر دل چسپ ہیں کہ انھیں بار بار پڑھنے کو دل چاہتا ہے۔سچ یہ ہے کہ میں نے کئی ایک افسانچوں کو کئی ایک بار پڑھا۔میرا ماننا ہے کہ وہی افسانچے کامیاب ہوسکتے ہیں۔جن کی قرات کے دوران قاری کو کسی بھی لمحے بوجھل پن کا احساس نہ ہو اور نہ ہی  وہ کسی فلسفیانہ نکتے پر اٹکے،بلکہ اختتام کے بعد از خودایسی فلسفیانہ فضا قائم ہو جائے کہ قاری ضرور چند سیکنڈ ٹھہر کر اس فلسفیانہ نکتے پر غور وفکر کرے۔آپ کے بیش تر افسانچے اختتام کے بعد سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔افسانچوں کے ذریعہ نئی نسل کی نمائندگی کے لیے مبارکباد۔‘‘
افسانچہ لکھنا بظاہر جتنا آسان نظر آتا ہے اتنا آسان نہیں۔کامیاب افسانچہ نگاری کے لیے چابکدستی اور تخلیقی صلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے۔زیر تبصرہ کتاب میں شامل افسانچے کسی پٹاخے کی طرح پھٹتے ہیں اور قاری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔کامران غنی صباؔ کے الفاظ میں:’’علیم اسماعیل کی اکثر کہانیاں چونکانے والی ہیں۔بعض کہانیاں صرف چند سطروں پر مشتمل ہیں لیکن قاری کو دیر تک سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔‘‘
ہمیں ضرورت ایسے ادب کی جو لطف اندوزی کے پیرائے میں اخلاقی درس دے۔اور کہانی سے ہمیشہ یہی کام لیا جاتاہے۔بشرطیکہ کہانی دلچسپ ہو اور اس میں بوریت نہ ہو۔ماہنامہ بچوں کا ھلا،رامپور کی مدیرہ سنبلہ کوکب صالحاتی فرماتی ہیں:’’جیسے ہی فرصت ملی الجھن کو پڑھا۔مکمل تو نہ پڑھ سکی مگر جتنا بھی پڑھا،الفاظ نہیں ہیں تعریف کے لئے حقیقت سے قریب تر،بہت قریب واہ!!! بہت لطف آیا۔‘‘
اس کتاب کی منفرد خوبی یہ ہے کہ اس میں افسانچے پہلے دیے گئے ہیں، افسانے بعد میں۔اور افسانچے اتنے دلچسپ ہے کہ جو کوئی بھی ایک دو افسانچے پڑھے گا وہ پوری کتاب پڑھے بنا نہیں رہے گا۔

زیرنظر کتاب میں’’الجھن،انتظار،خطا،خوف ارواح،شوکت پہ زوال،قربان،تاک جھانک،خیالی دنیا،مٹھا،اشک پشیمانی کے،وفا،پریشانی،کرب‘‘افسانے شامل ہیں۔جن کے موضوعات میں جدت و ندرت،روایت و جدیدیت کا امتزاج ہے۔ ڈاکٹر اسلم جمشید پوری لکھتے ہیں:’’علیم اسماعیل کے زیادہ تر افسانچے اور افسانے سماجی مسائل کا عکس ہیں،جو ان کی امنگیں ہیں،اصلاح کا جذبہ ہے اور کچھ نیا کرنے کی دھن ہے۔‘‘ درس و تدریس سے وابستہ ہونے کی وجہ سے محمد علیم اسماعیل کے افسانوں میں تعلیمی مسائل ابھر کر آئے ہیں۔ انتظار، تاک جھانک، مٹھا، تعلیمی مسائل پر منحصر افسانے ہیں۔ افسانہ’’الجھن‘‘میں دو بھائیوں کا مضبوط بندھن نفسانیت کا شکار ہو جاتاہے۔اور کہانی کا اختتام قاری کو چونکا دیتا ہے۔ افسانہ ’’انتظار‘‘ نان گرانٹ اسکول پر کام کررہے ایک ٹیچر کی درد بھری کہانی ہے۔یہ مسئلہ مہاراشٹر میں ناسور بن گیا ہے۔اس کہانی کے متعلق سلام بن رزاق فرماتے ہیں: تمہاری کہانی ’’انتظار‘‘ پڑھی، کہانی مجھے اچھی لگی۔تم نے ایک ٹیچر کے کرب کو  جس طرح بیان کیا ہے وہ ایک ٹیچر ہی کر سکتا ہے۔ افسانہ ’’خطا‘‘ وقتی فائدے کے لیے کسی کے جذبات سے کھیلنے اور اس کو صرف استعمال کرنے کا عبرتناک المیہ ہے۔ افسانہ ’’خوف ارواح‘‘ میں ایک بھائی کی اپنی بہن سے والہانہ محبت کو دلکش انداز میں پیش کیا گیا ہے۔اس افسانے میں منظر نگاری کمال کی ہے۔تمام منظر آنکھوں کے سامنے گھوم جاتے ہیں۔ایک بھائی ہے جسے بھوتوں سے بہت ڈر لگتا ہے۔اس نے سن رکھا ہے کہ خود کشی کے بعد مرنے والوں کی روح بھوت بن جاتی ہے۔اور گاؤں میں موجود قدیم پیپل کے درخت کے ارد گرد بھٹکتی رہتی ہے۔پھر اس کی بہن کی خود کشی سے موت ہو جاتی ہے۔اور وہ پیپل کے درخت کے پاس بہن کے بھوت سے ملنے چلا جاتا ہے۔ ’’شوکت پہ زوال‘‘موجودہ سیاسی ماحول کے پس منظر میں لکھا گیا افسانہ ہے۔ووٹ کی خرید و فروخت،نیتاؤں کی جملے بازی،بھڑکاؤ بیان بازی،پھوٹ ڈالوحکومت کرو اوربے قصورمسلمانوں کوجھوٹے الزامات میں پھنسانا افسانے کا مرکزی خیال ہے۔ افسانہ’’قربان‘‘ گھروں میں لڑکیوں کے ساتھ ہونے والے فرق آمیز برتاؤ اور بیٹے کو بیٹی پر فوقیت دینے کی کہانی ہے۔ افسانہ’’تاک جھانک‘‘نئے بستے کی چاہت میں ایک غریب بچے کی دم توڑتی امیدوں کی کہانی ہے۔ افسانہ’’خیالی دنیا‘‘حقیقی دنیا سے پرے سوشل میڈیا کی خیالی دنیا میں کھو جانے والے لڑکوں کی کہانی ہے۔ افسانہ’’مٹھا‘‘ میں بتایا گیا ہے کہ طلبہ کے ساتھ ٹیچر کا غلط رویہ کس طرح طلبہ کو اسکول چھوڑنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ افسانہ’’اشک پشیمانی کے‘‘میں ایک سبق آموز واقعہ کے ذریعےضرورت مندوں کی مدد کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ افسانہ’’پریشانی‘‘میں بیٹی کی شادی کا مسئلہ پیش ہوا ہے۔ افسانہ’’وفا‘‘ اور’’ کرب‘‘ میں ماں باپ کے ساتھ بیٹے اور بہو کے برے برتاؤ کو بتایا گیا ہے۔
’’تاثرات‘‘میں وسیم عقیل شاہ ممبئی،پروفیسر مبین نذیر مالیگاؤں،عقیلہ دہلی،تنویر کوثر یو۔پی اور ایازالدین اشہر کے مختصر تاثرات ہیں۔ آخر میں مصنف کے شخصی کوائف دیے گئے ہیں۔زبان کہیں ادبی تو کہیں عام بول چال کی ہے۔عام قاری بھی اس کتاب کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔بیان میں روانی ہےجو کہیں ٹھہرنے نہیں دیتی۔مکالمے،منظر نگاری،موضوعات،آغاز و اختتام سب کچھ بہترین ہے۔ایسالگتا نہیں کہ یہ موصوف کا پہلا مجموعہ ہے۔کچھ پروف ریڈنگ اور ٹائپنگ کی غلطیاں بھی پائی گئی ہیں۔سرورق نہایت ہی پر کشش اور جاذب نظر ہے۔کاغذ اور طباعت بھی اچھے ہیں۔کتاب کی چھپائی نورانی آفسیٹ پریس مالیگاؤں سے کی گئی ہے۔کتاب کی ضخامت 128 صفحات پر مشتمل ہے اور قیمت 150 روپے ہیں لیکن 40 فیصد ڈسکاؤنٹ کے ساتھ کتاب محض 65 روپے میں مل رہی ہے۔جس کی وجہ سے عام قاری بھی کتاب کو بآسانی حاصل کرسکتا ہے۔کتاب کی پی۔ڈی۔ایف فائل محمد علیم اسماعیل کے ادبی بلاک
پر دستیاب ہے۔اسی کے ساتھ ساتھ کتاب ملک و بیرون کی مختلف ویب سائٹس پر بھی شائع ہوئی ہے۔


Tuesday, 18 September 2018


علیم ہے خاندانی ہے
سخن کی وہ نشانی ہے

ادیبوں کا وہ ساتھی ہے
وہ  ہر شاعر کا جانی ہے

کہیں خاموش جھیلوں سا
کہیں سرسر روانی ہے

مکمل اک فسانہ ہے
ادھوری سی کہانی ہے

وہ چلتا پھرتا مکتب ہے
وہ *تنظیموں* کا بانی ہے

مسرت ہی مسرت ہے
حقیقی شادمانی ہے

راحیل انجم،ناندورہ
فکشن واٹس ایپ و ایک فیس بک گروپ

Saturday, 8 September 2018

Afsancha

افسانچہ

سمتوں کا ہیر پھیر

(محمد علیم اسماعیل، ناندورہ، مہاراشٹر)

میرا دوست، ایک اچھا دوست جو ہر وقت میری ایک آواز پر دوڑ پڑتا تھا۔ اس کا گھر شمال کی سمت اور میرا جنوب کی سمت تھا۔ اور درمیان ایک بیس فٹ چوڑا راستہ تھا۔ اس طرح ہم دونوں کے گھر آمنے سامنے تھے۔

جب بیوی سے میرا جھگڑا ہوتا تب وہ بیچ بچاؤ کرنے آجاتا تھا۔ ایک دن بیوی سے جھگڑے کے بعد میں کافی غصے میں تھا۔ اور وہ مجھے سمجھا رہا تھا۔۔۔۔ ’’ایسی عورت دیکھی نہیں کہیں۔‘‘

’’ہاں!!! یار میں پریشان ہو گیا ہوں اس عورت سے۔۔۔‘‘

’’بڑی بزّات (بدزاد) عورت ہے۔‘‘

’’کیا کروں دوست!!! وہ بات مانتی ہی نہیں میری۔ میں تو بس یہ چاہتا ہوں کہ وہ میرے فیصلے کو اپنا فیصلہ بنا لے۔‘‘

’’جانے دے یار تیری قسمت خراب ہے۔‘‘

پھر ایک دن میں نے طیش میں آکر اسے طلاق دے دی۔ طلاق دینے کے چار مہینے بعد مجھے معلوم ہوا کہ اس کی شادی ہو گئی ہے۔ اور وہ اپنے نئے گھر میں بہت خوش ہے۔

اب سوچتا ہوں تو بڑی حیرت ہوتی ہے مجھے کہ میں نے اتنا بڑا فیصلہ کیسے کرلیا تھا۔ دراصل میں غصے کی دہکتی ہوئی آگ میں جل اٹھا تھا۔ حقیقت میں وہ صرف ایک چنگاری تھی پر باہر سے آنے والی ہواؤں نے اسے شعلوں میں تبدیل کر دیا تھا۔ اب احساس ہوا ہے کہ میں اس کی سنتا کہاں تھا؟ بس اپنی من مانی ہی کیا کرتا تھا۔ لیکن آج صرف پچھتاوا ہے اور کچھ نہیں۔ پہلے وہ شمال کی سمت رہتی تھی اور اب جنوب کی سمت۔ کیوں کہ اس کا نیا شوہر میرا وہی دوست ہے ‎جو مجھے ہر وقت صرف بھڑکاتا تھا۔

Tuesday, 21 August 2018

تعزیتی کلام

28اپریل 2018کو  رمضان بھائی کی وفات پر خراجِ عقیدت

راہِ حق پر گامزن سچ کے علمبردار تھے
صاحبِ ایمان تھےوہ صاحبِ کردار تھے
ہر خوشی اُن کو میسرتھی مگر بیمار تھے
آخری ایام میں وہ درپہءِ آزارتھے
پھول سے بھی نرم دل رکھتے تھے وہ لیکن کبھی
ضد پہ آجائے اگر کوئی تو پھر تلوار تھے
موت ہی سے لڑرہے تھے وہ فقط ایسا نہیں
لمحہ لمحہ زیست سے بھی برسرِ پیکار تھے
یہ حقیقت ہے گرفتارِ انا تھے وہ مگر
حق پرستوں کے لئے اک آہنی دیوار تھے
یوں تو تھیں رمضان بھائی میں بہت سی خوبیاں
صاف گوئی میں وہ لیکن مطلعِ انوار تھے
حق پرستی کا یہ عالم تھا کہ وہ ناظمؔ میاں
پتھروں کے شہر میں بھی آئینہ بردار تھے

قدرت ناظم ناندورہ

رحوم ڈاکٹر رشید خان شادؔکی ناگہانی موت پر اظہار تعزیت 16 مارچ 1997

مرحوم ڈاکٹر رشید خان شادؔکی ناگہانی موت پر اظہار تعزیت 16 مارچ 1997

وہ سب کا ہم نفس تھا ہمنوا تھا
اسے دل ٹوٹنے کا تجربہ تھا

اڑتا تھا وہ ہر غم کو دھوئیں میں
خوشی کو دوستوں میں بانٹتا تھا

دکھاتا تھا کسی کو گھاؤ دل کا
نہ وہ زخموں کا مرہم چاہتا تھا

اسے درکار تھی عزت نہ شہرت
نہ وہ سائے کے پیچھے بھاگتا تھا

ضرورت تھی سہارے کی اسے بھی
وہ اندر سے بہت ٹوٹا ہوا تھا

وہ یوں تو علم کا دریا تھا ناظمؔ
پر اپنے آپ میں سمٹا ہوا تھا

قدرت ناظمؔ ناندورہ

Sunday, 12 August 2018

افسانچہ ۔ اعجاز پروانہؔ ناندوروی

افسانچہ    
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
                 المیہ !!!
          ــــــــــــــــــــــــــ
از قلم:  اعجاز  پرؔوانہ  ناندوروی۔
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
    اشرف خان ! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
             نہایت شریف اور عزت دار دو مرتبہ حج ،تین مرتبہ عمرہ اور پانچوں وقت کے نمازی الحاج کبیر سیٹھ صاحب جیسے نیک نام اور  وہ  بھی اپنے ہی پڑوسی کے گھر دن کے اُجالے میں قربانی کے لئے ایک لاکھ کا خریدا گیا بکرا چوری کرتے وقت تمھیں ذرا بھی شرم محسوس نہیں ہوئی ! ؟
تم کتنے لالچی انسان اوربد  بخت مسلمان ہو !!
    عالیجناب جج صاحب۔
   میں کبیر سیٹھ صاحب کا تقریباً تیس سال سے پڑوسی ہوں ۔ میرے کُنبہ میں بیوی ، ایک اپاہج  لڑکا اور تین جوان  بیٹیاں ہیں۔  حالات سے دلبرداشتہ ہو کر میری بیوی اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی ہے ۔ اس ساٹھ  سال کی عمر میں مجھ میں پہلے جیسی جوانوں کی سی طاقت نہیں رہی کہ پورا دن محنت مزدوری کر کے دو وقت کا اناج ہی خرید سکوں۔ پچھلے دو دن سے میرے گھر کا چولہا نہیں جلا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب آپ ہی بتائیے جج صاحب ۔۔۔۔
        ہم دونوں پڑوسیوں میں شرم کسے آنی چاہیئے !؟،
لالچی کون ہے !؟
اور بد بخت کون ہے!؟
اس میں کس کا قصور ہے ۔ بتائیے جج صاحب قصور اس میں کس کا ہے !!!؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔
کٹہرے میں روتے روتے شریف خان بس اتنا ہی کہہ پایا تھا کہ اس کا نحیف سا جسم نیچے گر پڑا اور روح سِدرۃُ المُنتہٰی کی جانب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پرواز کر گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
3 ِاگست 2018.بروز جمعہ۔

Saturday, 11 August 2018

غزل


                               غزل


اس شوخ کے چہرے پر ہے یوں تو ضیا ہم سے
معلوم نہیں کیوں ہے وہ پھر بھی خفا ہم سے
اقرار محبت تو کرتا ہے مگر پل پل 
دامن بھی بچاتا ہے وہ ہوش ربا ہم سے
آپ اپنی بڑائی جو کرتے نہیں تھکتا ہے
ثابت تو کرے اک دن ہے کتنا بڑا ہم سے
اس کو کسی قیمت پر ہم بیچ نہیں سکتے 
وہ چھین نہیں سکتا ہے احساس انا ہم سے
ایثار و محبت کی پہچان ہیں دنیا میں
اس دور میں زندہ ہیں آداب وفا ہم سے
ان کے بھی لیے رب سے بخشش کی دعا مانگو
امسا ل ہوئے کتنے احباب جدا ہم سے
حوروں کے تصور نے برباد کیا ناظمؔ
پورے ہی نہیں ہوتے احکام خدا ہم سے

قدرت ناظمؔ ناندورہ - 9850610556

Wednesday, 6 June 2018

افسانہ ۔۔۔ مہاجر مصنف ۔۔۔ ڈاکٹر شاہد جمیل,پٹنہ تجزیہ نگار ۔۔۔ محمد علیم اسماعیل، ناندورہ Mohd Alim Ismail

افسانہ ۔۔۔ مہاجر 
مصنف ۔۔۔ ڈاکٹر شاہد جمیل,پٹنہ
تجزیہ نگار ۔۔۔ محمد علیم اسماعیل، ناندورہ




’’ اس کا غیظ اور  بغض و حسد  بے قابو ہو کر منہ سے کود پڑا تھا۔ ’’ وہ بولی مجھ جیسی سہاگن سے اچھی بیوہ۔‘‘ 
میں ہکا بکا رہ گیا اور وہ قسمت کو کوستے ہوئے سسکنے لگی تھی۔‘‘

اس کہانی کے متعلق یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ میاں بیوی کے ٹکراؤ اور تو تو میں میں کی کہانی ہے۔ ڈاکٹر شاہد جمیل کے مطابق ’’میاں بیوی میں تو تو میں میں، سرحدی جھڑپوں سی ہوتی ہیں اور سیز فائر کا معاہدہ ٹوٹتا رہتا ہے۔‘‘
شاہد آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ ایک ظالم شوہر اور مظلوم بیوی کی کہانی ہوگی۔ لیکن دوستوں اگر آپ ایسا سوچتے ہیں تو آپ غلط ہیں۔ کیوں کہ یہ زندگی سے ہارے ہوئے شوہر اور مکمل آزادی کی خواہش مند بیوی کی کہانی ہے۔ آج کل چند عورتیں آزادی کا مطالبہ کر رہی ہیں، حقوق کی باتیں کر رہی ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ انھیں حقوق اسلامی اور آزادی مغربی چاہیے۔
اب اگلا اقتباس دیکھیے :

’’ میں نے غصہ کو پی کر کہا ’’ پاگل ہوگئی ہو؟ بیوہ سہاگن سے اچھی ہو سکتی ہے؟‘‘
وہ بھڑک کر بولی،’’ ہاں! کیوں نہیں ہوتی ہے۔ آنکھوں پر پٹی بندھی ہو تب سامنے کھڑا ہاتھی بھی نظر نہیں آتا۔‘‘
میں سمجھ گیا کہ اس کی نظر میں کون ہے۔ میرے بھائی کی جواں مرگی نے اس کی بیوی کی زندگی بدل دی تھی۔ وہ پلک جھپکتے خودمختار اور پوری ملکیت کی تنہا مالکن بن گئی۔‘‘

جب بیوی سسرالی بندھنوں سے آزادی کی طلب گار ہو تب گھر کا سارا سکون غارت ہو جاتاہے۔ گھر جہنم بن جاتاہے۔ آدمی دن بھر کی مسافت سے تھک تھکا کر جب گھر آتا ہے تو وہ سکون چاہتا ہے۔ اور جب کہیں بھی سکون نہ ملے تو وہ گھر سنسار کیا زندگی سے ہی بے زار ہو جاتاہے۔
’’ اس کے دل و دماغ میں سنامی کی لہریں اٹھ رہی تھیں اور میرا غصہ بھی عروج پر تھا۔ مجھے لگا، اس کی انوکھی خواہش کو پورا کرنے کا یہ صحیح وقت ہے۔ میں نے پر عزم لہجے میں کہا " ٹھیک ہے۔ میں تمھیں عیش بھری زندگی کا تحفہ دوں گا" اس وقت میں نے حسب منصوبہ منہ اندھیرے بستر چھوڑا تھا۔ پھر گھر بار کو فسادزدہ کی طرح الوداعی سلام کیا اور تہی دست و پاپیادہ کوہستان کی جانب چل پڑا تھا۔ ‘‘
شوہر نے بیوی کو عیش بھری زندگی کا تحفہ کچھ یوں دیا کہ بستر پر وصیت، دستاویزات، بینک اکاؤنٹ، بلینک چیک، کارڈ مع پن ، دکان کی چابیاں رکھ کر گھر بار چھوڑ دیا۔ نامعلوم منزل کی جانب چلتا رہا، ناہموار راہوں پر دن رات بھٹکتا رہا۔ جب تھک کر چور چور ہو جاتا اور دم اکھڑنے لگتا تو کچھ آرام کر لیتا۔ اپنے پیروں کو خود ہی دباتا، اپنے زخموں کو خود ہی سہلاتا۔ پھر پر خطر راہوں پر سفر کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا اور ایام زندگی کو اسی طرح خرچ کرتارہا۔
’’ سہاگ رات میں اس نے دانستہ مجھے تشنہ لب رکھا تھا۔ "وہ نہیں، تو کوئی اور نہیں۔،" یہ وعدہ اس نے اپنے آپ سے کیا ہوگا۔‘‘
ایک رات یوں ہی صحرا نوردی کرتے کرتے اس کے ذہن میں سہاگ رات اور شادی کی پہلی سال گرہ کا منظر گھومنے لگتا ہے۔ ڈاکٹر شاہد جمیل نے منظر نگاری کا پورا پورا حق ادا کردیا۔ افسانے میں غضب کی روانی ہے جو کہیں ٹھہرنے نہیں دیتی۔ تمام مناظر ذہن کے پردوں پر حرکت کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
’’اچانک وہ میرے سینے پر ٹھڈی جما کر بولی، "ایک بات پوچھوں؟‘‘
ٹھڈی چبھنے لگی تھی۔ لیکن سینے کا دباؤ سروربخش تھا۔ میں فلسفیانہ گفتگو میں وقت ضائع کرنا نہیں چاہتا تھا۔ لیکن وہ فی الوقت جواب کی منتظر تھی تب میں نے کہا،’’پوچھئے! لیکن اس وقت ایک سے زیادہ نہیں۔‘‘
’’آپ نے کسی سے محبت کی ہے؟ " اس کی نگاہ میرے چہرے پر مرکوز تھی۔ مجھے لگا کہ لڑکی دیکھنے آئی چالاک عورت کی طرح وہ کچن اور باتھ روم بھی دیکھ لینا چاہتی ہے۔‘‘

آج تک ہم نے عورتوں پر ظلم کی داستانیں پڑھی تھیں لیکن مرد بھی مظلوم ہوتے ہیں۔ یہ صرف عہد جدید میں نہیں یہ تو ہر دور میں ہوا ہے۔ پر ہم نے سکے کا ہمیشہ ایک ہی پہلو دیکھا ہے۔ تخلیقیت واقعات کے رگ و پے میں سرایت کر گئی ہے۔ کہانی اپنے وجود میں انسانی کرب کو سمیٹ کر سماجی مسائل کی طرف اشارہ کر ہی ہیں۔
’’ وہ بولی بشتر دو شیزاؤں کے دل میں خوابوں کا شہزادہ ہوتا ہے۔لیکن۔۔۔۔۔۔‘‘
’’لیکن کیا؟‘‘ میری آواز جاں بلب مریض کی کراہ جیسی تھی۔
’’لیکن سب خوش نصیب نہیں ہوتیں۔‘‘ اس کا لہجہ سپاٹ تھا۔‘‘

گھریلو زندگی کے مسائل  کا ڈاکٹر شاہد جمیل نے نہایت ہی باریکی سے جائزہ لیا ہیں۔ ان کا مشاہدہ بہت گہرا ہے۔ انھوں نے زندگی کو بہت ہی قریب سے دیکھا ہے اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روز مرہ کے چھوٹے چھوٹے واقعات کو انھوں نے تخلیقیت سے بھر دیا ہے۔
’’موت کا یقین ہوتے مجھے گھر پریوار کی فکر ستانے لگی تھی۔ بیگانے سے اپنوں کی یاد شدت سے آنے لگی۔‘‘
جب انسان کو اپنی موت یقینی لگتی ہے تو فطری بات ہے کہ اسے اپنے گھر پریوار کی یاد ستاتی ہے۔ وہ اپنوں کے درمیان زندگی کی آخری سانسیں لینا چاہتا ہے، چاہے وہ اپنے کتنے ہی بیگانے کیوں نہ ہو۔
’’ اچانک میری نگاہ کالے چیونٹوں کی رواں قطار پر مرکوز ہو گئی، جو باہمی اشتراک سے ایک مکوڑے کی لاش کو گھسیٹتے ہوئے لے جارہے تھے۔‘‘
مصنف نے بتایا ہے کہ زندگی باہمی اشتراک سے چلتی ہے۔ اور وہ دل ہی دل یہ محسوس کرتا ہے کہ اس وقت اگر بیوی پاس ہوتی تو اسے یہ منظر دکھاتا۔ ایک دوسرے کے لیے قربانی کا جذبہ رکھنے سے ہی گھر پریوار کی دیواریں مضبوط ہوتی ہے۔ افسانے کی پیشکش اتنی دلچسپ ہے کہ قاری کو اپنی گرفت میں آنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ قاری اپنے آپ کو افسانے کی رواں لہروں کے حوالے کر دیتا ہے اور اسی کے ساتھ بہتا چلا جاتا ہے۔ اس بات کا انداز یہ اقتباس سے بخوبی ہو جاتا ہے کہ افسانے کی زبان بڑی دلچسپ اور تخلیقی ہے۔ ’’اسے یقین نہیں آیا۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔ اسے لگا کہ میں خزاں رسیدہ پتوں پر دبے پاؤں چل کر بے آواز نکلنے کی حماقت کر رہا ہوں۔‘‘
ڈاکٹر شاہد جمیل ایک ایسے فنکار ہے جن کی یہاں زندگی کی ناہمواریوں کے خلاف احتجاج ہے، جدوجہد ہے،ٹکراؤ ہے۔

Thursday, 12 April 2018

معین الدین عثمانی کا فن____ محمد علیم اسماعیل


معین الدین عثمانی کا فن


 (محمد علیم اسماعیل)




افسانہ نگاری 
دنیا میں ایسے بہت سے نامور اور گمنام شخصیات ہیں جو دن رات اردو ادب کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں اور زمانے بھر کی مصیبتوں کو برداشت کر کے ادب کی آبیاری میں اپنی توانائی صرف کر رہے ہیں ۔جس میں ایک نام معین الدین عثمانی کا بھی ہیں ۔جن کا تعلق جلگاؤں، مہاراشٹر سے ہیں ۔ ان کے پاس شور شرابے کے ڈھول نہیں، کوئی پروپیگنڈہ نہیں کیوں کہ وہ ادب برائے ادب کے نظریے کے حامل ہے اور نہایت ہی خاموشی سے اردو کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں ۔وہ اردو کے ایک بہترین افسانہ نگار اور ممتاز ناقد ہیں ۔ان کے دو افسانوی مجموعے ’’ متحرک منظر کی فریم‘‘ اور ’’نجات‘‘ منظر عام پر آکر داد و تحسین حاصل کر چکے ہیں ۔’’متحرک منظر کی فریم ‘‘ 1991 میں شائع ہوا جس میں 22 کہانیاں ہیں ۔
انھوں نے مڈل کلاس طبقے کو اپنی توجہ کا مرکز بنا کر افسانے گڑھے ہیں ۔ان کی کہانیاں اپنے عہد کی ترجمان ہیں ۔جو زندگی کی کڑوی حقیقتوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں ۔ روز مرہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے واقعات کو موتیوں کی طرح ایک ساتھ پرونے میں انھیں مہارت حاصل ہے ۔ ان کا ہر نیا افسانہ ایک نئے اسلوب و نئے طرز نگارش کو جنم دیتا ہے ۔وہ حقیقت وصداقت اور سماجی اصلاحی نظریات کو اپنے دلکش اسلوب سے افسانہ بننے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔
ان کے افسانوں میں احتجاج ہے ۔۔۔۔ بدلتے ہوئے حالات کے خلاف ۔۔۔۔ گرتی ہوئی سماجی قدروں کے خلاف ۔۔۔۔ بڑھتے ہوئے ظلم کے خلاف ۔۔۔۔ اور حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ۔وہ ایک حساس طبیعت کے مالک کے ہیں، جو سب کچھ صرف تماشائی بن کر ہی نہیں دیکھ سکتے ۔
ان کا افسانہ ’’سایہ سایہ زندگی‘‘ چھوٹے اور بڑے شہروں کی طرز زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔ جس میں ترقی کے نام پر ہونے والی عریانی کا انھوں نے نہایت ہی چابکدستی سے نقشہ کھینچا ہے ۔ افسانہ ’’نجات‘‘مکافات عمل کی کہانی ہے ۔ جس میں انہوں نے زندگی کے اتار چڑھاؤ کو نہایت ہی خوبصورتی کے ساتھ پینٹ کیا ہے ۔ افسانہ ’’بنیاد ‘ ‘ اپنوں سے جدائی کا کرب اوران کی کمی کا احساس کراتا ہے ۔ افسانہ ’’عذاب گزیدہ‘‘دہشت گردی کے نام پر پولیس کے ظلم و جبر کی داستان ہے ۔
افسانہ ’’یادوں کے سلسلے‘‘ میں مصنف اپنی تحریر کو افسانہ ماننے سے انکار کرتا ہے ۔ مگر چونکہ اس میں افسانوی عناصر موجود ہیں لہٰذا اسے افسانہ ہی کہیں گے ۔ یہ کہانی ہے ایک سات سال کی معصوم بچی کی جسے چھوٹی سی عمر میں ایک جان لیوا بیماری لگ جاتی ہے ۔مصنف کے ذہن میں یادوں کا ایک سلسلہ برقرار ہے جس کے ایک ایک لمحے کو یاد کرکے وہ جینا چاہتا ہے ۔کہانی شروع سے آخر تک جذبات سے لبریز ہے۔ مصنف ہی کہانی کا راوی ہے جو اپنی بیٹی کی دکھ بھری کہانی بیان کر رہا ہے ۔جس کے غم میں قاری بھی برابر شریک ہے ۔خون سے بڑا انسانیت کا رشتہ ہوتا ہے، یہ بات اس وقت ایک دھماکے کی طرح قاری کے ذہن میں گونجتی ہے جب راوی اپنی بیٹی کے متعلق یہ کہتا ہے کہ ’’شاید آپ یقین نہیں کریں گے ۔مگر یہ حقیقت ہے ۔ اس نے میری بیوی کے بطن سے جنم نہیں لیا تھا ۔ مگر اس کی زندگی کے صبح و شام میری اور اہلیہ کی گود میں ہی گزرے تھے ۔‘‘ افسانہ ’’ڈوبتے ابھرتے جزیرے ‘‘ آغاز سے اختتام تک قاری کو باندھے رکھتا ہے۔انداز بیاں اور اسلوب متاثر کن ہے ،اور عنوان کے ساتھ بھی موصوف نے خوب انصاف کیا ہے۔افسانہ ’’نئے پرانے ا وراق‘‘ انسانی کرداروں کے ساتھ ساتھ لفظوں کو بھی کردار وں کی شکل میں پیش کر کے ایک نیا تجربہ کیا گیاہے۔ آندھی،امانت، بے زمینی کا کرب، ریت کی دیوار ،ان کے بہترین افسانے ہیں۔جب کسی کہانی کار کے فن کا جائزہ لیا جاتاہے تو عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کے پاس اچھی کہانیاں کتنی ہیں ۔ایک اچھی و نمائندہ کہانی فن کار کی ناؤ پار لگا دینے کے لیے کافی ہوتی ہے۔معین الدین عثمانی کی زنبیل میں ایک سے ایک نمائندہ موجود ہے۔ ان کے افسانوں کے کردار مخلص بھی ہیں اور خود غرض بھی، جن میں خوبیاں ہیں تو خامیاں بھی ۔ ان کے کردار نذیر احمد کے کرداروں کی طرح نہ پوری طرح فرشتے ہیں، نہ مکمل طور پر شیطان بلکہ ان کے افسانوں کے کردار آج کی دنیا کے جیتے جاگتے چلتے پھرتے ملی جلی کیفیت کے حامل ہے ۔

تنقیدنگاری

جب کوئی فن پارہ وجود میں آتا ہے تو اس کے ساتھ ساتھ تنقید کا بھی جنم ہوتا ہے ۔تنقیدی شعور کی روشنی میں تخلیق کا محاسبہ کرکے اس کو نکھارا اور سنوارا جاتا ہے۔
معین الدین عثمانی کا تنقیدی انداز بیان واضح اور سنجیدہ ہے ۔وہ صاف ستھری اور عام فہم زبان میں اپنی بات کہتے ہیں ۔ان کے تنقیدی مضامین حقائق و دلائل کی روشنی میں اپنا سفر طے کر تے ہیں ۔
وہ سید احتشام حسین کی طرح تخلیق کو ایک ہی زاویہ سے نہیں دیکھتے، نہ ہی کلیم الدین احمد کی طرح بت شکنی میں یقین رکھتے ہیں بلکہ آل احمد سرور کی طرح مختلف زاویوں سے فن پارے کو کھنگالتے ہیں ۔ان کا اسلوب بڑا ہی دلفریب ہے۔عالم گیر ادب (آورنگ آباد 2018) میں انھوں نے بڑے اچھوتے اسلوب سے نورالحسنین کے فن اور شخصیت کا جائزہ لیا ہے۔
ان کے تنقیدی مضامین کے چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیں:
۱) سہ ماہی فکروتحقیق(نئی دہلی) اکتوبر نومبر دسمبر 2013 مضمون’’اردو افسانے کا بدلتا منظر نامہ ‘‘میں وہ سلام بن رزاق کے متعلق فرماتے ہیں: 
’’یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ان کے یہاں موضوع بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔پھر ان کی پیش کش میں لفظوں کا دروبست قاری کو حد درجہ متاثر کرتا ہے ۔ اور تمثیلی انداز سے ترسیل کی ناؤ کو پار لگا دیتے ہیں سلام بن رزاق اردو کہانی کا ایک معتبر نام ہے۔ مگر انجام کار کی طرح کہانیوں کا قارئین کو آج بھی انتظار ہے ۔‘‘
۲) اور ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کے متعلق لکھتے ہیں: 
’’اسلم جمشید پوری بغیر کسی نظریہ تحریک اور رجحان کے افسانے کی دنیا میں داخل ہوتے ہیں ۔ان کے افسانوں پر پریم چند کی طرح گاؤں کی زندگی کے اثر جابجا دکھائی دیتے ہیں ۔ ان کے یہاں موضوعات کی کمی نہیں ہے ۔زبان و بیان میں سادگی کی کہانیوں کی خاصیت ہے ۔ان کے مشہور افسانوں میں شرابی، لینڈرا، پینٹھ، دھوپ کا سایہ، وہم کے سائے وغیرہ ہیں ۔‘‘
۳) تکمیل (بھیونڈی) جنوری تا دسمبر 2014 میں شوکت حیات نمبر میں لکھتے ہیں:
’’مقام مسرت ہے کہ شوکت حیات نے سرخ اپارٹمنٹ کے ذریعے اشتراکیت کی حقیقی تصویر کشی کی ہے اور اس میں وہ بہت آگے بڑھ گئے ہیں ۔فن پارہ زندگی کا ترجمان ہوتا ہے اگر اسے زندگی کے واضح حقیقی روپ میں پیش کیا جائے تو وہ شاہکار کی حدود میں داخل ہو جاتا ہے ۔شوکت حیات بھی اس لحاظ سے یہاں ایک کامیاب فنکار کے طور پر ابھر کر آئے ہیں ۔‘‘
۴) عالم گیر ادب(آورنگ آباد) 2018 نورالحسنین فن اور شخصیت نمبر میں مضمون: ایک قصہ گو کی کہانی میں رقمطراز ہیں:
اس کی کہانی کے بارے میں کیا کہوں؟ وہ جب بھی لکھتا ہے، جم کر لکھتا ہے ۔ آپ کو شاید معلوم ہوگا کہ جدیدیت کے دور میں بھی اس کا طوطی بولنے لگاتھا ۔ اور وہ جب بھی محفلوں میں قصے کہانیاں بیان کرتا تو معلوم نہیں کیوں لوگ چوپال کی طرح اس کے ارد گرد جمع ہونے لگتے، اور پھر برگد کی چھاؤں میں وہ بڑے آرام سے بیٹھ کر قصے کے ایک ایک تار کو اس طرح ادھیڑتا کہ وقت گزرنے کا کسی کو احساس بھی نہیں ہوتا۔ اسے دیکھ کر تو بس یہی لگتا کہ مانو وہ دنیا میں محض قصے بیان کرنے ہی کو آیا ہے ۔ اس کی آواز کے اتار چڑھاؤ اور چہرے کے تاثرات سننے اور دیکھنے والوں کو کسی جادوگر کی طرح مسخر کرلیتے ۔‘‘

اہل ادب کی نظر میں 


 انور قمر۔۔انھوں نے اپنے افسانوں میں فلسفیانہ تصور سے متعلق داستانی سطح پر گفتگو کرتے ہوئے حیات، معاشرہ اور قانون جیسے پیچیدہ مسائل پر سوالات بھی کیے ہیں ۔
 خورشید حیات۔۔مٹی بدن تحریروں کی پوشاک میں لپٹی معین الدین عثمانی کی کہانیاں نہ صرف تخلیقی سطح پر تغیر و تبدل سے روبہ رو ہوتی نظر آتی ہیں بلکہ آفاقی حقیقتوں پر زور دیتی نظر آتی ہیں ۔زندگی کی اوبڑ کھابڑ پگڈنڈیوں کو، واقعات کی مختلف کڑیوں کو ایک توازن کے ساتھ پیش کرنے کا ہنر معین کو آتا ہے۔
 احمد صغیر ۔۔معین الدین کے افسانوی فن میں اختصاریت ہے ۔وہ مختصر سے افسانے میں اپنے دور کی تصویر دیانتداری سے پیش کرتے ہیں ۔ ان کے یہاں فن، مقصد کے حصول کا ایک ذریعہ ہے لیکن انھوں نے پروپیگنڈے سے اپنے فن کو محفوظ ومامون رکھا ہے۔
آخر میں میں صرف یہی کہوں گا کہ معین الدین عثمانی بحیثیت فن کار اپنی ذمہ داریوں سے سمجھوتا نہیں کرتے ۔وہ ایک مقصد کے تحت لکھتے ہیں لیکن مقصد کو کبھی فن پر حاوی ہو نے نہیں دیتے۔ایک طرف ان کے یہاں جدوجہد،ٹکراؤ ہے تو دوسری طرف نرمی اور شائستگی بھی موجود ہے۔