Pages

Thursday, 12 April 2018

معین الدین عثمانی کا فن____ محمد علیم اسماعیل


معین الدین عثمانی کا فن


 (محمد علیم اسماعیل)




افسانہ نگاری 
دنیا میں ایسے بہت سے نامور اور گمنام شخصیات ہیں جو دن رات اردو ادب کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں اور زمانے بھر کی مصیبتوں کو برداشت کر کے ادب کی آبیاری میں اپنی توانائی صرف کر رہے ہیں ۔جس میں ایک نام معین الدین عثمانی کا بھی ہیں ۔جن کا تعلق جلگاؤں، مہاراشٹر سے ہیں ۔ ان کے پاس شور شرابے کے ڈھول نہیں، کوئی پروپیگنڈہ نہیں کیوں کہ وہ ادب برائے ادب کے نظریے کے حامل ہے اور نہایت ہی خاموشی سے اردو کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں ۔وہ اردو کے ایک بہترین افسانہ نگار اور ممتاز ناقد ہیں ۔ان کے دو افسانوی مجموعے ’’ متحرک منظر کی فریم‘‘ اور ’’نجات‘‘ منظر عام پر آکر داد و تحسین حاصل کر چکے ہیں ۔’’متحرک منظر کی فریم ‘‘ 1991 میں شائع ہوا جس میں 22 کہانیاں ہیں ۔
انھوں نے مڈل کلاس طبقے کو اپنی توجہ کا مرکز بنا کر افسانے گڑھے ہیں ۔ان کی کہانیاں اپنے عہد کی ترجمان ہیں ۔جو زندگی کی کڑوی حقیقتوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں ۔ روز مرہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے واقعات کو موتیوں کی طرح ایک ساتھ پرونے میں انھیں مہارت حاصل ہے ۔ ان کا ہر نیا افسانہ ایک نئے اسلوب و نئے طرز نگارش کو جنم دیتا ہے ۔وہ حقیقت وصداقت اور سماجی اصلاحی نظریات کو اپنے دلکش اسلوب سے افسانہ بننے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔
ان کے افسانوں میں احتجاج ہے ۔۔۔۔ بدلتے ہوئے حالات کے خلاف ۔۔۔۔ گرتی ہوئی سماجی قدروں کے خلاف ۔۔۔۔ بڑھتے ہوئے ظلم کے خلاف ۔۔۔۔ اور حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ۔وہ ایک حساس طبیعت کے مالک کے ہیں، جو سب کچھ صرف تماشائی بن کر ہی نہیں دیکھ سکتے ۔
ان کا افسانہ ’’سایہ سایہ زندگی‘‘ چھوٹے اور بڑے شہروں کی طرز زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔ جس میں ترقی کے نام پر ہونے والی عریانی کا انھوں نے نہایت ہی چابکدستی سے نقشہ کھینچا ہے ۔ افسانہ ’’نجات‘‘مکافات عمل کی کہانی ہے ۔ جس میں انہوں نے زندگی کے اتار چڑھاؤ کو نہایت ہی خوبصورتی کے ساتھ پینٹ کیا ہے ۔ افسانہ ’’بنیاد ‘ ‘ اپنوں سے جدائی کا کرب اوران کی کمی کا احساس کراتا ہے ۔ افسانہ ’’عذاب گزیدہ‘‘دہشت گردی کے نام پر پولیس کے ظلم و جبر کی داستان ہے ۔
افسانہ ’’یادوں کے سلسلے‘‘ میں مصنف اپنی تحریر کو افسانہ ماننے سے انکار کرتا ہے ۔ مگر چونکہ اس میں افسانوی عناصر موجود ہیں لہٰذا اسے افسانہ ہی کہیں گے ۔ یہ کہانی ہے ایک سات سال کی معصوم بچی کی جسے چھوٹی سی عمر میں ایک جان لیوا بیماری لگ جاتی ہے ۔مصنف کے ذہن میں یادوں کا ایک سلسلہ برقرار ہے جس کے ایک ایک لمحے کو یاد کرکے وہ جینا چاہتا ہے ۔کہانی شروع سے آخر تک جذبات سے لبریز ہے۔ مصنف ہی کہانی کا راوی ہے جو اپنی بیٹی کی دکھ بھری کہانی بیان کر رہا ہے ۔جس کے غم میں قاری بھی برابر شریک ہے ۔خون سے بڑا انسانیت کا رشتہ ہوتا ہے، یہ بات اس وقت ایک دھماکے کی طرح قاری کے ذہن میں گونجتی ہے جب راوی اپنی بیٹی کے متعلق یہ کہتا ہے کہ ’’شاید آپ یقین نہیں کریں گے ۔مگر یہ حقیقت ہے ۔ اس نے میری بیوی کے بطن سے جنم نہیں لیا تھا ۔ مگر اس کی زندگی کے صبح و شام میری اور اہلیہ کی گود میں ہی گزرے تھے ۔‘‘ افسانہ ’’ڈوبتے ابھرتے جزیرے ‘‘ آغاز سے اختتام تک قاری کو باندھے رکھتا ہے۔انداز بیاں اور اسلوب متاثر کن ہے ،اور عنوان کے ساتھ بھی موصوف نے خوب انصاف کیا ہے۔افسانہ ’’نئے پرانے ا وراق‘‘ انسانی کرداروں کے ساتھ ساتھ لفظوں کو بھی کردار وں کی شکل میں پیش کر کے ایک نیا تجربہ کیا گیاہے۔ آندھی،امانت، بے زمینی کا کرب، ریت کی دیوار ،ان کے بہترین افسانے ہیں۔جب کسی کہانی کار کے فن کا جائزہ لیا جاتاہے تو عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کے پاس اچھی کہانیاں کتنی ہیں ۔ایک اچھی و نمائندہ کہانی فن کار کی ناؤ پار لگا دینے کے لیے کافی ہوتی ہے۔معین الدین عثمانی کی زنبیل میں ایک سے ایک نمائندہ موجود ہے۔ ان کے افسانوں کے کردار مخلص بھی ہیں اور خود غرض بھی، جن میں خوبیاں ہیں تو خامیاں بھی ۔ ان کے کردار نذیر احمد کے کرداروں کی طرح نہ پوری طرح فرشتے ہیں، نہ مکمل طور پر شیطان بلکہ ان کے افسانوں کے کردار آج کی دنیا کے جیتے جاگتے چلتے پھرتے ملی جلی کیفیت کے حامل ہے ۔

تنقیدنگاری

جب کوئی فن پارہ وجود میں آتا ہے تو اس کے ساتھ ساتھ تنقید کا بھی جنم ہوتا ہے ۔تنقیدی شعور کی روشنی میں تخلیق کا محاسبہ کرکے اس کو نکھارا اور سنوارا جاتا ہے۔
معین الدین عثمانی کا تنقیدی انداز بیان واضح اور سنجیدہ ہے ۔وہ صاف ستھری اور عام فہم زبان میں اپنی بات کہتے ہیں ۔ان کے تنقیدی مضامین حقائق و دلائل کی روشنی میں اپنا سفر طے کر تے ہیں ۔
وہ سید احتشام حسین کی طرح تخلیق کو ایک ہی زاویہ سے نہیں دیکھتے، نہ ہی کلیم الدین احمد کی طرح بت شکنی میں یقین رکھتے ہیں بلکہ آل احمد سرور کی طرح مختلف زاویوں سے فن پارے کو کھنگالتے ہیں ۔ان کا اسلوب بڑا ہی دلفریب ہے۔عالم گیر ادب (آورنگ آباد 2018) میں انھوں نے بڑے اچھوتے اسلوب سے نورالحسنین کے فن اور شخصیت کا جائزہ لیا ہے۔
ان کے تنقیدی مضامین کے چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیں:
۱) سہ ماہی فکروتحقیق(نئی دہلی) اکتوبر نومبر دسمبر 2013 مضمون’’اردو افسانے کا بدلتا منظر نامہ ‘‘میں وہ سلام بن رزاق کے متعلق فرماتے ہیں: 
’’یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ان کے یہاں موضوع بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔پھر ان کی پیش کش میں لفظوں کا دروبست قاری کو حد درجہ متاثر کرتا ہے ۔ اور تمثیلی انداز سے ترسیل کی ناؤ کو پار لگا دیتے ہیں سلام بن رزاق اردو کہانی کا ایک معتبر نام ہے۔ مگر انجام کار کی طرح کہانیوں کا قارئین کو آج بھی انتظار ہے ۔‘‘
۲) اور ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کے متعلق لکھتے ہیں: 
’’اسلم جمشید پوری بغیر کسی نظریہ تحریک اور رجحان کے افسانے کی دنیا میں داخل ہوتے ہیں ۔ان کے افسانوں پر پریم چند کی طرح گاؤں کی زندگی کے اثر جابجا دکھائی دیتے ہیں ۔ ان کے یہاں موضوعات کی کمی نہیں ہے ۔زبان و بیان میں سادگی کی کہانیوں کی خاصیت ہے ۔ان کے مشہور افسانوں میں شرابی، لینڈرا، پینٹھ، دھوپ کا سایہ، وہم کے سائے وغیرہ ہیں ۔‘‘
۳) تکمیل (بھیونڈی) جنوری تا دسمبر 2014 میں شوکت حیات نمبر میں لکھتے ہیں:
’’مقام مسرت ہے کہ شوکت حیات نے سرخ اپارٹمنٹ کے ذریعے اشتراکیت کی حقیقی تصویر کشی کی ہے اور اس میں وہ بہت آگے بڑھ گئے ہیں ۔فن پارہ زندگی کا ترجمان ہوتا ہے اگر اسے زندگی کے واضح حقیقی روپ میں پیش کیا جائے تو وہ شاہکار کی حدود میں داخل ہو جاتا ہے ۔شوکت حیات بھی اس لحاظ سے یہاں ایک کامیاب فنکار کے طور پر ابھر کر آئے ہیں ۔‘‘
۴) عالم گیر ادب(آورنگ آباد) 2018 نورالحسنین فن اور شخصیت نمبر میں مضمون: ایک قصہ گو کی کہانی میں رقمطراز ہیں:
اس کی کہانی کے بارے میں کیا کہوں؟ وہ جب بھی لکھتا ہے، جم کر لکھتا ہے ۔ آپ کو شاید معلوم ہوگا کہ جدیدیت کے دور میں بھی اس کا طوطی بولنے لگاتھا ۔ اور وہ جب بھی محفلوں میں قصے کہانیاں بیان کرتا تو معلوم نہیں کیوں لوگ چوپال کی طرح اس کے ارد گرد جمع ہونے لگتے، اور پھر برگد کی چھاؤں میں وہ بڑے آرام سے بیٹھ کر قصے کے ایک ایک تار کو اس طرح ادھیڑتا کہ وقت گزرنے کا کسی کو احساس بھی نہیں ہوتا۔ اسے دیکھ کر تو بس یہی لگتا کہ مانو وہ دنیا میں محض قصے بیان کرنے ہی کو آیا ہے ۔ اس کی آواز کے اتار چڑھاؤ اور چہرے کے تاثرات سننے اور دیکھنے والوں کو کسی جادوگر کی طرح مسخر کرلیتے ۔‘‘

اہل ادب کی نظر میں 


 انور قمر۔۔انھوں نے اپنے افسانوں میں فلسفیانہ تصور سے متعلق داستانی سطح پر گفتگو کرتے ہوئے حیات، معاشرہ اور قانون جیسے پیچیدہ مسائل پر سوالات بھی کیے ہیں ۔
 خورشید حیات۔۔مٹی بدن تحریروں کی پوشاک میں لپٹی معین الدین عثمانی کی کہانیاں نہ صرف تخلیقی سطح پر تغیر و تبدل سے روبہ رو ہوتی نظر آتی ہیں بلکہ آفاقی حقیقتوں پر زور دیتی نظر آتی ہیں ۔زندگی کی اوبڑ کھابڑ پگڈنڈیوں کو، واقعات کی مختلف کڑیوں کو ایک توازن کے ساتھ پیش کرنے کا ہنر معین کو آتا ہے۔
 احمد صغیر ۔۔معین الدین کے افسانوی فن میں اختصاریت ہے ۔وہ مختصر سے افسانے میں اپنے دور کی تصویر دیانتداری سے پیش کرتے ہیں ۔ ان کے یہاں فن، مقصد کے حصول کا ایک ذریعہ ہے لیکن انھوں نے پروپیگنڈے سے اپنے فن کو محفوظ ومامون رکھا ہے۔
آخر میں میں صرف یہی کہوں گا کہ معین الدین عثمانی بحیثیت فن کار اپنی ذمہ داریوں سے سمجھوتا نہیں کرتے ۔وہ ایک مقصد کے تحت لکھتے ہیں لیکن مقصد کو کبھی فن پر حاوی ہو نے نہیں دیتے۔ایک طرف ان کے یہاں جدوجہد،ٹکراؤ ہے تو دوسری طرف نرمی اور شائستگی بھی موجود ہے۔

No comments:

Post a Comment